اسلام آباد: تھانہ نون کے علاقے میں پولیس ٹیم پر فائرنگ، 2 ملزمان زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
اسلام آباد کے تھانہ نون کے علاقے میں گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر جانے والی پولیس ریڈنگ ٹیم پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق مطابق پولیس ٹیم ملزمان زبیر اور سجاد کو ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں چھپے ملزمان نے اچانک پولیس پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس افسران بلٹ پروف جیکٹ اور حفاظتی اقدامات کی بدولت محفوظ رہے تاہم فائرنگ سے گرفتار ملزمان زبیر اور سجاد زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کا مرتکب شخص گرفتار، ویڈیوز برآمد، این سی آر سی کا شدید ردعمل
پولیس کے مطابق زبیر اور سجاد تھانہ نون کے مقدمہ نمبر 438/25 میں جسمانی ریمانڈ پر تھے۔ دونوں ملزمان نے 25 اگست 2025 کو ڈکیتی کے دوران ایک بیکری مالک کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک اور ساتھی ملزم ارشد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل، اسلحہ اور ایمونیشن برآمد ہوا ہے۔ گرفتار ملزمان اسلام آباد اور کراچی کے سنگین جرائم میں بھی سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ حملہ کرنے والے دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس فائرنگ گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس فائرنگ گرفتاری اسلام آباد
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک