چائنا افریقہ چیمبر آف کامرس کی نائب صدر مس ہاؤ نے صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے شنگھائی میں ملاقات کی۔

ملاقات میں مس ہاؤ نے پاکستان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا چیمبر قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

صدر اور خاتونِ اول نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیے: پاک چین دوستی آنے والے وقتوں میں مزید مستحکم ہوگی: صدر مملکت آصف زرداری

اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسا چیمبر پاک۔چین اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس سے قبل صدرِ پاکستان نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے پہلے نیشنل کانگریس میموریل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی صدر کے ہمراہ تھے۔

یہ تاریخی میموریل شنگھائی کے فرنچ علاقے میں واقع ہے جہاں جولائی 1921 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ صدر مملکت نے شیکومن طرزِ عمارت اور نمائش ہال کا دورہ کیا جس میں تاریخی نوادرات، تصاویر اور اہم دستاویزات محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: صدر آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے

صدر نے اس ورثے کے تحفظ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مقام چین کی ترقی اور عالمی طاقت بننے میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائنا شنگھائی صدر مملکت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چائنا شنگھائی صدر مملکت آصف علی زرداری صدر مملکت

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے