واٹس ایپ کی جانب سے میسیج چیٹنگ میں دلچسپ فیچر کی آزمائش
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کی جانب سے میسیج چیٹنگ میں ایک دلچسپ فیچر پر آزمائش شروع کر دی گئی۔واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق آزمائشی فیچر کے تحت گروپ چیٹس میں میسیجز کے ریپلائیز تھریڈ کی صورت میں نظر آنے لگیں گےاس وقت واٹس ایپ پر کسی بھی میسج کا جواب دیتے وقت ہر ریپلائی الگ الگ ہوجاتا ہے اور کوئی بھی صارف گروپ میں کسی ایک میسیج پر جوابات دیتے ہیں تو سب کے ریپلائیز الگ الگ نظر آنے لگتے ہیں۔تاہم نئے فیچر میں ایسا نہیں ہوگا اور تمام ریپلائیز ایک ساتھ تھریڈ کی صورت میں نظر آنے لگیں گے۔فیچر کے تحت اگر کسی گروپ میں کوئی صارف میسیج بھیجتا ہے اور اس پر 10 افراد ریپلائی کرتے ہیں تو تمام افراد کے ریپلائیز اور اصل میسیج ایک ساتھ تھریڈ کی صورت میں نظر آئیں گے۔یعنی اگر کسی گروپ میں کسی اہم موضوع پر متعدد افراد بحث کرنے لگیں گے تو پہلے بھیجے گئے میسیج پر جو شخص ریپلائی کرے گا اور پھر دوسرا شخص بھی اسی جواب پر ریپلائی کرے گا تو تمام ریپلائیز ایک ساتھ جمع ہوجائیں گے اور ریپلائی تھریڈ کو کلک کرنے پر تمام جوابات کو پڑھا بھی جا سکے گا۔مذکورہ فیچر کا زیادہ فائدہ بڑے گروپ چیٹس میں ہوگا اور چیٹنگ میں حصہ لینے کے خواہش مند نئے صارف کو معاملہ سمجھنے میں آسانی ہوگی۔مذکورہ فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دے کر اس پر آزمائش شروع کر دی گئی اور جلد ہی مزید صارفین کو اس تک رسائی دیئے جانے کے بعد فیچر کو عام صارفین کیلئے پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: واٹس ایپ
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے