سعودی عرب میں پاکستانی وفد کا شاندار استقبال، دوطرفہ تعلقات میں نئی جہت قرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات، دوستی، محبت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے، سعودی عرب نے پاکستان کا ہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی برادرانہ لازوال تعلقات باہمی اعتماد اور اسلامی بھائی چارے پر مبنی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب میں پاکستانی وفد کا شاندار استقبال، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نئی جہت قرار۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔
دوحہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات میں طے پایا تھا کہ دونوں کی جلد دوبارہ ملاقات ہو گی۔ آج وزیراعظم کا استقبال سعودی شاہی فضائیہ کی جانب سے بے مثال انداز میں کیا گیا، پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہیں سعودی عرب اس قدر عزت و تکریم دیتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات، دوستی، محبت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے، سعودی عرب نے پاکستان کا ہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی برادرانہ لازوال تعلقات باہمی اعتماد اور اسلامی بھائی چارے پر مبنی ہیں، پاکستان کے عوام سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ کی موجودگی کے باعث پاکستانی عوام کی سعودی عرب سے گہری مذہبی وابستگی بھی ہے۔ وزیراعظم کے فقید المثال استقبال کے بعد اسلام آباد انتظامیہ کو فوری احکامات جاری کیے گئے، ان احکامات کے تحت دارالحکومت کی عمارتوں کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔
اس وقت پاک سعودی ٹاور سمیت اسلام آباد کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے، یہ تمام اقدامات وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے بھائی چارے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔