توشہ خانہ ٹو کیس کے 2 اہم گواہان کے بیانات سامنے آگئے، سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس کے 2 اہم گواہان کے بیانات سامنے آگئے جنہوں نے اہم انکشافات کیے ہیں۔
گواہان میں عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں، دونوں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کراچکے ہیں۔
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانےکا اعتراف کیا ہے جب کہ انعام اللہ شاہ نے پرائیویٹ اپریزر پر دباؤ ڈال کر جیولری سیٹ کی قدرکم کرنےکا انکشاف کیا۔

صہیب عباسی نے بیان میں کہا کہ بلغاری جیولری سیٹ کی تشخیص 25 مئی 2022کو کابینہ ڈویژن کےسیکشن افسرنے سونپی تھی، انعام اللہ شاہ نےدباؤ ڈال کربلغاری سیٹ کی 50 لاکھ روپے ویلیو لگانے کو کہا، انعام اللہ شاہ نےدھمکی دی اگر ویلیوکم نہ کی توسرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کردیاجائےگا۔
انہوں نے کہا کہ 23 مئی2024 کو نیب کے انویسٹی گیشن افسر کےسامنے پیش کیاگیا اور معافی کی درخواست جمع کرائی، اپنی رضامندی سے نیب کے انویسٹی گیشن افسر کو دستاویزات فراہم کیں۔

صہیب عباسی کے مطابق چیئرمین نیب کے سامنے معافی مانگتےہوئےاپنا بیان ریکارڈکرایا اور ریکارڈ پر دستخط بھی کیے، مجسٹریٹ کے سامنے بھی اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ ڈر کے مارے جیولری سیٹ کی قدرکم کرکے رپورٹ دی۔

کیس کے دوسرے گواہ انعام اللہ شاہ نے بیان میں کہا کہ میں نے صہیب عباسی سے جیولری سیٹ کی قدر کم کرنے کو کہا تھا، میں نے پی ٹی آئی اور سرکاری نوکری دونوں سے تنخواہیں وصول کیں اور 2019 سے 2021 تک ڈبل سیلری وصول کرتا رہا۔

انعام اللہ شاہ کے مطابق بشریٰ بی بی کی ناراضی پرنوکری سے برطرف کیا گیا، ڈبل سیلری کی شکایت نہیں تھی، بشریٰ بی بی کوشک تھا کہ جہانگیرترین کے ساتھ میرےبھائی کےتعلقات ہیں۔

اس حوالے سے نیب حکام کا کہنا ہے کہ بلغاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، عمران خان نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی اور انہوں نے صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔
نیب حکام کےمطابق جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ایئررنگز اور ایک انگوٹھی شامل تھی۔

واضح رہے کہ بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد نے بطور سابق وزیراعظم عمران خان اوربشریٰ بی بی کوگفٹ کیا تھا۔

نیب حکام کےمطابق عمران خان اوربشریٰ بی بی نے جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا تھا، پرائیویٹ اپریزر سے قیمت لگاکرجیولری سیٹ اپنے پاس رکھا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی اے کو ہٹانے کا فیصلہ معطل، عہدے پر بحال اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی اے کو ہٹانے کا فیصلہ معطل، عہدے پر بحال طاقتور حلقوں کو فارم 47 سے بنی حکومت کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے، اعظم سواتی سعودیہ اور پاکستان، جارح کے مقابل ایک ہی صف میں، ہمیشہ اور ابد تک: سعودی وزیر دفاع ’’پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب‘‘ وزیراعظم کا ولی عہد سے اظہارِ تشکر جعلی فٹبال ٹیم، انسانی اسمگلر کے بڑے انکشاف سامنے آ گئے افغانستان سے دہشتگردی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے ، عاصم افتخار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سیٹ کی قیمت توشہ خانہ کیس کے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری