امریکی صدرکا بھارت کوایک اور تجارتی جھٹکا، ایرانی چابہاربندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 ستمبر 2025ء ) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کوایک اور تجارتی جھٹکادیتے ہوئے ایرانی چابہاربندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور مودی کوایک اور تجارتی جھٹکا دے دیا۔چاہ بہار پر سرمایہ کاری کرنے والی بھارتی کمپنیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔
امریکا نے بھارت سے ایرانی چابہاربندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا نے ایران پر دباؤ ڈالنے کیلئے چھوٹ واپس لی، چابہار پر بھارتی آپریٹرز کو امریکی سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ چھوٹ واپس لینے کا فیصلہ 29ستمبر 2025 سے مئوثر ہوگا۔ چاہ بہار بھارت کیلئے افغانستان اور وسط ایشیاء تک اہم تجارتی راستہ ہے۔(جاری ہے)
دوسری جانب امریکا اور برطانیہ کے درمیان ٹیکنالوجی شراکت داری معاہدہ طے پاگیا، ڈونلڈ ٹرمپ اور کیئر اسٹارمر نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق چیکرز میں امریکی صدر کے دورہ برطانیہ کے دوران دونوں ممالک میں ٹیکنالوجی کے میدان میں شراکتداری معاہدہ طے پاگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے معاہدے پر دستخط کیے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور کیئر اسٹارمر نے برطانیہ اور امریکا کے درمیان ایک نئی ٹیکنالوجی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ نیا معاہدہ پہلے ہی نجی شعبے کے معاہدوں کی ایک لہر کو فروغ دینے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنی ایکس انرجی اور برطانوی کمپنی سینٹرکا برطانیہ بھر میں ایٹمی ری ایکٹرز لگانے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ ( معاہدہ ) برسوں سے ’ہوا میں تھا‘ لیکن اب ’ آخرکار‘ حققیت بن گیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ برطانیہ اس سال کے شروع میں امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے والا پہلا ملک تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ممالک کے درمیان تعلقات بے حد قیمتی ہیں، یہ تعلق ایک خوبصورت وراثت ہے اور دونوں حکومتیں ان رشتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا رہی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔