Jasarat News:
2026-07-24@06:47:00 GMT

لبنان میں منشیات کی بڑی کھیپ پکڑلی گئی

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنانی فوج نے ملک کے مشرقی حصے میں تقریباً 6کروڑ 40لاکھ کیپٹاگون کی گولیاں ضبط کرنے کا دعویٰ کردیا اور تصدیق کی ہے کہ یہ لبنانی سرزمین پر ضبط کی جانے والی سب سے بڑی مقداروں میں سے ایک ہے۔ واضح رہے لبنان منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔فوج نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں وضاحت کی کہ لبنان کے مختلف علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے فریم ورک کے تحت بقاع کے علاقے میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تعاقب کے بعد انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی ایک پٹرولنگ ٹیم نے فوج کی ایک یونٹ کے تعاون سے بودائی۔ بعلبک قصبے میں ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور منشیات ضبط کرلی ہیں۔ اس کارروائی میں منشیات کی تیاری کے لیے تیار کردہ 79 بیرل کیمیائی مواد اور انہیں بنانے کے لیے استعمال ہونے والی کئی مشینیں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ان اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے جس کے نتیجے میں لبنانی سرزمین کے اندر منشیات کی سب سے بڑی کھیپ ضبط کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس ٹھکانے کو چلانے میں ملوث گروہ کے افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ لبنانی فوج نے گزشتہ جولائی میں لبنان کے مشرق میں کیپٹاگون بنانے والے سب سے بڑے کارخانوں میں سے ایک کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے بعلبک کا علاقہ شام کی سرحد کے قریب مشرقی لبنان میں واقع ہے جہاں بشار الاسد کے نظام کے زوال سے پہلے کیپٹاگون کی سمگلنگ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔ بشار الاسد کے نظام کے زوال کے بعد صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت نے لاکھوں کیپٹاگون کی گولیاں ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں منشیات کی فوج نے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار