لبنان میں منشیات کی بڑی کھیپ پکڑلی گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنانی فوج نے ملک کے مشرقی حصے میں تقریباً 6کروڑ 40لاکھ کیپٹاگون کی گولیاں ضبط کرنے کا دعویٰ کردیا اور تصدیق کی ہے کہ یہ لبنانی سرزمین پر ضبط کی جانے والی سب سے بڑی مقداروں میں سے ایک ہے۔ واضح رہے لبنان منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔فوج نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں وضاحت کی کہ لبنان کے مختلف علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے فریم ورک کے تحت بقاع کے علاقے میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور تعاقب کے بعد انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی ایک پٹرولنگ ٹیم نے فوج کی ایک یونٹ کے تعاون سے بودائی۔ بعلبک قصبے میں ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور منشیات ضبط کرلی ہیں۔ اس کارروائی میں منشیات کی تیاری کے لیے تیار کردہ 79 بیرل کیمیائی مواد اور انہیں بنانے کے لیے استعمال ہونے والی کئی مشینیں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ان اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے جس کے نتیجے میں لبنانی سرزمین کے اندر منشیات کی سب سے بڑی کھیپ ضبط کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس ٹھکانے کو چلانے میں ملوث گروہ کے افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ لبنانی فوج نے گزشتہ جولائی میں لبنان کے مشرق میں کیپٹاگون بنانے والے سب سے بڑے کارخانوں میں سے ایک کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے بعلبک کا علاقہ شام کی سرحد کے قریب مشرقی لبنان میں واقع ہے جہاں بشار الاسد کے نظام کے زوال سے پہلے کیپٹاگون کی سمگلنگ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔ بشار الاسد کے نظام کے زوال کے بعد صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت نے لاکھوں کیپٹاگون کی گولیاں ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں منشیات کی فوج نے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔