سکھر بیراج پر پانی میں 24 ہزار کیوسک کمی، مزید کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سکھر(نیوز ڈیسک) سکھر بیراج پر 24 گھنٹوں کے دوران پانی میں 24 ہزار کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی، 24 گھنٹوں میں سکھر بیراج پر پانی کے بہاؤ میں مزید کمی متوقع ہے۔
ریلا پیر منگل تک کوٹری بیراج پہنچے گا، دادو مورو پل پر پانی کی سطح میں اضافہ ، میہڑ اور دادو تحصیل کے کچے کے علاقے متاثر ہیں، نئوں گوٹھ میں زمیں داری بند میں شگاف، مزید 4 دیہات زیر آب آگئے۔
کپاس، تل اور دیگر فصلیں متاثر ہوئی ہیں، ضلع میں سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 46 تک پہنچ گئی۔
دیہات کا میہڑ اور دادو سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔
میہڑ سے سیلابی ریلا لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند سے آج ٹکرائے گا، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
Post Views: 10.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔