سوشل میڈیا پر سرویکل کینسر مہم کیخلاف مِس انفارمشن پھیلائی جا رہی ہے: عزرا فضل پیچوہو
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سرویکل کینسر ویکسین لگائی جاتی رہی ہے، ویکسن سے متعلق مِس انفارمشن پھیلائی جا رہی ہے۔
وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ41 لاکھ بچیوں کو ایچ پی ویکسین لگانے کا ہدف ہے، یہ ویکسن خواتین میں مخصوص کینسر کا سبب بننے والے وائرس کو روکتی ہے، ایک سیاسی جماعت نے ویکسین کے خلاف مہم شروع کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی عمر میں ویکسین لگانے سے خواتین میں قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے، اس ویکسین کے خلاف ہی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
ویکسین کی سنگل ڈوز سرویکل کینسر سے بچاؤ میں مفید ہے، ماہر امراض نسواں ڈاکٹر فرحماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر فرح نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان میں ہر روز 8 خواتین سرویکل کینسر سے انتقال کر جاتی ہیں، ویکسین کی سنگل ڈوز سرویکل کینسر سے بچاؤ میں مفید ہے، ویکسین اس موذی بیماری سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔
ویکسین میں نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کو لگائی، ڈاکٹر خالد شفیعڈائو یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر خالد شفیع نے خطاب کے دوران کہا کہ یہ ویکسین پہلے بہت مہنگی تھی، اس پر کافی ریسرچ ہوئی ہے، ماہرین نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے نیشنل ایمیونائزیشن کا حصہ ہونا چاہیے، یہ ویکسین کے پی اور بلوچستان میں بھی لگائی جائے گی، میں نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کو لگائی، قوم کی بیٹیاں بھی ہماری ہیں۔
ڈاکٹرخالد شفیع کا کہنا تھا کہ ای پی آئی پروگرام میں 12 ویکسین موجود ہیں، اب 13ہوجائیں گیں۔
بعد ازاں وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ کینسر رجسٹری ابھی بن رہی ہے، محکمہ سائبر کرائم کو سوشل میڈیا پر مہم پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا کہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے دوران کہا کہ سرویکل کینسر رہی ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔