ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو: ٹک ٹاک اور تجارتی معاہدے زیر بحث
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعے کو ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے مستقبل اور چین امریکا تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کی ملکیت کا معاملہ، امریکا اور چین میں فریم ورک ڈیل طے پاگئی
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی اور خبر رساں ایجنسی شنہوا نے تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
ٹک ٹاک کا معاملہصدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وہ شی جن پنگ سے ٹک ٹاک اور تجارت دونوں معاملات پر بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام معاملات پر معاہدے کے قریب ہیں اور میرا چین کے ساتھ تعلق بہت اچھا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کے حوالے سے جلد کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکا اور چین کے تجارتی مذاکرات، ٹک ٹاک ڈیڈلائن بھی ایجنڈے میں شامل
یہ ایپ امریکا میں مقبول ترین ویڈیو پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے لیکن قومی سلامتی کے خدشات کے باعث امریکی قانون کے تحت چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو اس کی امریکی شاخ فروخت کرنے پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کی امریکی ملکیت امریکی سرمایہ کاروں، امیر افراد اور کمپنیوں کے ہاتھ میں ہو گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ٹک ٹاک نے نوجوان ووٹروں میں ان کی مقبولیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، اور اسی کی بدولت انہوں نے 2024 کا صدارتی انتخاب جیتا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس معاہدے میں امریکی ٹیک کمپنی اوریکل اور 2 بڑی سرمایہ کاری کمپنیاں سلور لیک اور آندریسن ہورووٹز شامل ہو سکتی ہیں۔
تجارتی تنازع اور ٹیرفیہ بات چیت ایسے وقت پر ہوئی ہے جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں چین اور امریکا ٹیرف پر جاری تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: چین کی فوجی پریڈ متاثر کن تھی، صدر شی کی تقریر میں امریکا کا ذکر ہونا چاہیے تھا، ٹرمپ کا شکوہ
یاد رہے کہ سال کے آغاز میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر بھاری تجارتی ٹیرف عائد کیے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی۔
بعد ازاں دونوں نے ٹیرف میں نرمی کا معاہدہ کیا جو نومبر میں ختم ہو رہا ہے۔
امریکا نے چینی مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف لگایا جبکہ چین نے امریکی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا۔
عالمی سیاست پر تبادلہ خیالٹیلیفونک گفتگو ایسے وقت پر ہوئی جب صدر شی نے حال ہی میں روس و بھارت کے رہنماؤں کے ساتھ ایک بڑا اجلاس منعقد کیا اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو بیجنگ میں ایک فوجی پریڈ میں شرکت کی دعوت دی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ امریکا کے خلاف سازشیں کرنے کے دوران ولادیمیر پیوٹن اور کم جونگ اُن کو میری تسلیمات۔
ٹرمپ نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری پر سزا دینے والے ٹیرف عائد کیے ہیں اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین پر روسی تیل خریدنے پر پابندیاں لگائیں حالانکہ امریکا نے خود چین پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی
انہوں نے مزید کہا کہ اگر چین پر ایسی پابندیاں لگائی جاتیں، تو شاید یوکرین کی جنگ ختم ہو چکی ہوتی۔
ممکنہ دورےیہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں دوسری بات چیت تھی۔
5 جون کو ٹرمپ نے بتایا تھا کہ شی جن پنگ نے انہیں چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔
ٹرمپ نے بھی چینی صدر کو امریکا آنے کی دعوت دی تھی تاہم ابھی تک کوئی حتمی سفری منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ اس بات چیت میں دوبارہ دعوت دے سکتے ہیں کیونکہ ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر پروٹوکول اور شاندار استقبال پسند آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹیرف حملے: چین کا امریکا کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
ٹک ٹاک کے مستقبل اور چین امریکا تجارتی تعلقات پر جاری کشیدگی کے درمیان یہ ٹیلیفونک رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ٹک ٹاک کے کروڑوں صارفین اور عالمی مارکیٹس دونوں کے لیے مثبت اشارہ ہو گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ شی جن پنگ گفتگو ٹک ٹاک مسئلہ چین امریکا تجارت چینی صدر شی جن پنگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹرمپ شی جن پنگ گفتگو ٹک ٹاک مسئلہ چین امریکا تجارت چینی صدر شی جن پنگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹک ٹاک کے اور چین بات چیت
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔