برقی ہوا بازی (الیکٹرک ایوی ایشن)  کی دنیا میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت پیش آیا جب امریکا کی ایرو اسپیس کمپنی بیٹا ٹیکنولوجیز کے تیار کردہ برقی طیارے آلیا نے ناروے کے شہر برگن میں کامیابی سے لینڈنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اسٹار ہوٹل یا جہاز، اس سُپر لگژری جہاز کا ٹکٹ کتنے کا ہے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ صرف بیٹری پاور پر 100 میل (160 کلومیٹر) کی پرواز کر کے 55 منٹ میں اپنی منزل پر پہنچا۔ پائلٹ جرمی ڈیگانیے کے مطابق یہ پرواز 52 منٹ کی تھی اور یہ کہ اگر آپ گاڑی سے جائیں تو ساڑھے 4 گھنٹے لگتے ہیں۔

برقی کارگو طیارہ

آلیا کو خاص طور پر کارگو (سامان) لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ 560 کلوگرام (آدھا ٹن) تک وزن اٹھا سکتا ہے۔

یہ طیارہ 400 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے اور کسی برقی کار کی طرح 40 منٹ سے کم وقت میں ری چارج ہو جاتا ہے۔

اسے مسافروں یا طبی ایمرجنسی کے لیے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے جس میں 5 سیٹیں نصب کی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان اپنی گاڑی کب بنائے گا؟

جون 2025 میں یہ طیارہ نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر پہلی برقی مسافر پرواز کے لیے بھی استعمال ہوا۔

 یورپی دورہ اور مستقبل کی امید

آلیا نے اس سے قبل آئرلینڈ، جرمنی، ڈنمارک کے ساتھ ساتھ فارن بورو اور پیرس ایئر شوز میں بھی شرکت کی۔ اب ناروے میں اس کی آزمائشی پروازیں جاری ہیں جو کم کاربن ہوابازی کے سفر میں ایک اہم قدم ہے۔

 ناروے کے ہوائی اڈے کے آپریٹنگ ادارے کی ڈائریکٹر کاریان ہیلینڈ اسٹرینڈ نے اسے ناروے کے لیے ایک بین الاقوامی تجرباتی مرکز کے طور پر ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

 برقی پرواز کی بڑی رکاوٹ: بیٹری ٹیکنالوجی

ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی طیاروں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیٹری کی صلاحیت ہے۔

لیتھیم آئن بیٹریاں بھاری ہوتی ہیں اور ان میں توانائی کی گنجائش ایوی ایشن فیول کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

کرین فیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گائے گریٹن کے مطابق بیٹری ٹیکنالوجی میں گزشتہ 20 سالوں میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ریل کار چلانے کی تیاری، وزیراعظم نے حکام کو کیا ہدایات کیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں برقی پرواز کو کامیاب بنانا ہے تو بیٹری کیمیا میں انقلاب ضروری ہے۔

مسئلے کا حل کیا ہے؟

اب کئی کمپنیاں مکمل برقی پرواز کے بجائے ہائبرڈ ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہی ہیں جیسے کہ پہلے ہائبرڈ کاریں برقی گاڑیوں کی طرف پہلا قدم تھیں۔

30 نشستوں والا طیارہ ’ایکس آئی‘ کیا ہے جس میں 2 ٹن وزنی بیٹریاں نصب ہیں۔

مکمل برقی پرواز میں 200 کلومیٹر تک سفر ممکن ہے اور ہائبرڈ سسٹم کے ذریعے 800 کلومیٹر تک پرواز کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شنگھائی الیکٹرک نے کے ای کی خریداری کا ارادہ ترک کردیا

کمپنی نے حال ہی میں اپنے تمام آپریشنز سویڈن سے امریکا منتقل کر دیے تاکہ سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کے قریب رہ سکیں۔

امریکا میں واقع کمپنی الیکٹرا 9 نشستوں والا ہائبرڈ طیارہ بنا رہی ہے جس کی آزمائشی پروازیں 2029 تک متوقع ہیں۔

آلیا کے علاوہ بھی فوجی اور شہری مقاصد کے لیے ہائبرڈ طیاروں پر کام جاری ہے اور جلد ہی ایک خودکار ہائبرڈ طیارہ متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔

بیٹا ٹیکنالوجیز کے چیف ریونیو آفیسر شون ہال کہتے ہیں کہ ہم ہائبرڈ ٹیکنالوجی پر 100 فیصد پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمبی دوری طے کرنے کا موجودہ حل ہے اور پھر بھی ماحولیاتی فائدہ برقرار رکھتا ہے۔

مستقبل کی ہوابازی: مکمل برقی، ہائبرڈ یا کچھ اور؟

فی الحال صرف پِپِسٹرل ویلس الیکٹرو ایک ایسا برقی طیارہ ہے جسے یورپی حکام سے مکمل منظوری حاصل ہے، لیکن وہ صرف تربیتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

بہت سے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ہوابازی کے شعبے میں مکمل برقی طیارے، ہائبرڈ ٹیکنالوجی، حیاتیاتی ایندھن اور ہائیڈروجن سسٹمز سب کو مشترکہ طور پر آزمایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایل جی انرجی سلوشن اور ٹیسلا کے درمیان 4.

3 ارب ڈالر کا بیٹری فراہمی معاہدہ

اگرچہ برقی ہوابازی کا خواب تیزی سے حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن موجودہ بیٹری ٹیکنالوجی کی حدود اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

ہائبرڈ نظام اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک پائیدار، محفوظ اور تجارتی طور پر قابل عمل حل کے لیے مزید تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹرک جہاز الیکٹرک طیارہ برقی جہاز برقی طیارہ بیٹا ٹیکنالوجیز ناروے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک جہاز الیکٹرک طیارہ برقی جہاز برقی طیارہ بیٹا ٹیکنالوجیز ناروے برقی پرواز کے لیے ہے اور

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا