پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں دیگر خلیجی ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے اور اس معاہدے کو دو طرفہ تعاون سے بالاتر ہو کر توسیع دی جائے گی۔
عرب میڈیا کو انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ چیز نہیں ہے اور یہ معاہدہ باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے فریم ورک میں مشترکہ سیکیورٹی کی ضمانت دی گئی ہے کہ جب کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت ہوگی تو دوسرے ملک کے خلاف بھی جارحیت تصور کی جائے گی، آج کی کشیدہ عالمی صورت حال کے پیش نظر اس طرح کے معاہدے ضروری ہیں۔
وزیردفاع نے کہا کہ اس دفاعی معاہدے میں کوئی ذیلی یا خفیہ شرائط شامل نہیں ہیں بلکہ یہ علاقائی استحکام کی ضمانت کے لیے ایک شفاف اور اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاہدے میں کسی کو کوئی استثنی حاصل نہیں ہے اور معاہدے میں تربیتی مشقیں اور ٹیکنیکل تعاون شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی کی ریاستیں اپنے دفاع کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کرسکتی ہیں اور یہ ممالک اپنی سلامتی کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار نہیں کرسکتے جو میلوں دور ہیں بلکہ وہ ایک خود مختار ملک بنیں گے جس کے پاس اپنے دفاع کی صلاحیت اور قابلیت ہوگی۔ وزیردفاع نے علاقائی تعاون اور دفاع میں پاکستان کے مضبوط کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اور عرب ملک نے اشارہ دیا تو پاکستان دیگر ممالک کو بھی اس معاہدے میں شامل کرنے پر غور کرسکتا ہے، جیسا کہ سعودی عرب کے معاملے پر ہوا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکھیلوں میں سیاست گھسیٹنے والے بھارت کو دھچکا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ورکنگ گروپ کا اعلان کردیا کھیلوں میں سیاست گھسیٹنے والے بھارت کو دھچکا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ورکنگ گروپ کا اعلان کردیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، خواجہ آصف وکلا احتجاج کے دوران ہاتھا پائی کا معاملہ،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار سید واجد گیلانی کی مدعیت میں مقدمہ درج افغانوں نے تاریخ میں اپنی سرزمین پر غیرملکی فوج کی موجودگی کو کبھی قبول نہیں کیا: افغان حکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے میں دیگر خواجہ آصف نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔