ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی20 سیزن 4 کا پہلا پلیئرز آکشن یکم اکتوبر کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی20 سیزن 4 کا پہلا پلیئرز آکشن یکم اکتوبر کو ہوگا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 September, 2025 سب نیوز
دبئی : دبئی کے فور سیزنز ہوٹل جمیرا بیچ میں بدھ، یکم اکتوبر 2025 کو ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی20 سیزن 4 کا پہلا پلیئرز آکشن منعقد کیا جائے گا۔ یہ ایونٹ لیگ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں تمام چھ فرنچائزز اپنی ٹیموں کو حتمی شکل دیں گی۔
اس سے قبل جولائی میں کھلاڑیوں کی ریٹینشن لسٹ جاری کی گئی تھی۔اہم نکات:فرنچائزز کو مجموعی طور پر 1.
جن میں 11 فل ممبر ممالک سے، 4 متحدہ عرب امارات سے، ایک کویت سے، ایک سعودی عرب سے اور 2 دیگر ایسوسی ایٹ ممالک سے ہوں گے۔آکشن کے بعد فرنچائزز کو مزید دو وائلڈ کارڈ سائننگ کی اجازت ہوگی۔ایک خاص سہولت کے تحت فرنچائزز اپنے ڈویلپمنٹ اسکواڈ یا سیزن 3 میں کھیلنے والے کسی یو اے ای کھلاڑی کے لیے رائٹ ٹو میچ آپشن استعمال کر سکیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملہ سعودی عرب پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا: رانا ثنا کھیلوں میں سیاست گھسیٹنے والے بھارت کو دھچکا، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ورکنگ گروپ کا اعلان کردیا ایشیا ء کپ: سپر فور مرحلے میں پاکستان کا بھارت سے مقابلہ کب اور کہاں ہوگا؟ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپین شپ: ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر اسرائیلی ٹیم کی شرکت پر اسپین کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کا عندیہ ایشیا کپ سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان کو کتنا بڑا نقصان ہوسکتا تھا؟ صائم ایوب کی ایشیا کپ میں صفر پر آوٹ ہونے کی ہیٹ ٹرک مکملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ورلڈ ا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔