سندھ کے پنشنرز کی فائلیں گم، مشکوک پنشنز کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-01-5
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ کے مختلف محکموں کے 3 لاکھ 8 ہزار پینشنرز میں سے ہزاروں پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائل گم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مختلف محکموں کے ہزاروں پینشنرز کے فائل گم ہونے کی وجہ سے مشکوک پینشنرز کو پینشن جاری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پی اے سی نے مشکوک پینشن جاری ہونے سے روکنے کے لئے سندھ کے تمام محکموں کو اپنے پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائل متعلقہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسز میں ایک ماہ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائل جمع نہ کرانے والے مشکوک پینشنرز کی آئی ڈیز بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جمعے کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین، محکمہ خزانہ کے سیکریٹری فیاض جتوئی اور متعدد اضلاع کے ڈسٹرکٹ اکاو?نٹس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ کی سال 2024 اور 2025ع کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اعتراض اٹھایا گیا کہ ایس اے پی (سیپ) پیرول سسٹم میں سینکڑوں زائد المعیادشناختی کارڈز پر غیر تصدیق شدہ پنشن کی ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی نے بتایا کہ سندھ میں مختلف محکموں کے 3 لاکھ 8 ہزار سے زائد پنشنرز میں سے ہزاروں پنشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائل گم ہیں، جن میں اکثریت محکمہ تعلیم کے پنشنرز کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پنشن کا نظام “راست” اور “مائیکرو پیمنٹ” ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔پی اے سی اجلاس میں سندھ کے9 اضلاع میں پنشن فنڈز میں 40 کروڑ روپے کے غبن کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ محکمہ خزانہ کے16 افسران و ملازمین اور اے جی سندھ کے3 ملازمین ملوث پائے گئے جنہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نوشہرو فیروز سمیت مختلف اضلاع میں بعض پینشنرز کو دو دو اور تین تین مرتبہ پنشن جاری کی گئی۔ پی اے سی نے تمام محکموں کو اپنے پنشنرز کا ریکارڈ جمع کرانے کا ایک ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ریکارڈ پر مبنی فائل پینشنرز کے اجلاس میں پی اے سی سندھ کے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔