WE News:
2026-06-03@03:01:20 GMT

پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست پر اثرات

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو ماہرین نہ صرف ایک تاریخی پیشرفت قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے موجودہ حالات میں فلسطین کی حمایت کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب سے باہمی مفادات کا خیال رکھنے کی توقع ہے، بھارت کا پاک سعودی معاہدے پر ردعمل

دونوں ممالک نے زور دیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت ہے، اور یہ معاہدہ اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

پس منظر اور دیرینہ تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ گہرے اور قریبی رہے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا، خصوصاً حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی معاہدے عرصہ دراز سے موجود رہے ہیں۔

A historic milestone has been achieved Pakistan and Saudi Arabia have signed a Strategic Mutual Defense Agreement, granting Pakistan the sacred honor of standing as a protector of the Haramain Sharifain.

This is more than a military pact; it is a divine and spiritual… pic.twitter.com/V7SrQEfizL

— Pakistan Strategic Prism (@PakStratprism) September 19, 2025

سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، خاص طور پر جب پاکستان عالمی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا شکار تھا۔

امریکا اور مغربی دنیا کے لیے پیغام

یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مسلم ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے اب مزید باہمی انحصار بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی پیشرفت ہے، مشاہد حسین

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

ایران اور افغانستان کے خدشات

ایران کے نزدیک یہ معاہدہ خطے میں اس کے اثرورسوخ کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے، جبکہ افغانستان کے حالات اور وسط ایشیائی خطے کی صورتحال بھی اس پیش رفت سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس معاہدے کو اپنے خلاف صف بندی سمجھ سکتا ہے۔

بھارت اور جنوبی ایشیا پر اثرات

پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھارت کے لیے بھی نئی سفارتی اور اسٹریٹجک مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

نئی دہلی پہلے ہی خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسلام آباد اور ریاض کا اتحاد اس توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایٹمی پہلو اور اسٹریٹجک تعاون

ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی تعاون چاہ سکتا ہے۔

اگرچہ یہ معاملہ حساس ہے، لیکن اس کے اشارے پچھلی دہائیوں سے موجود ہیں کہ ریاض اسلام آباد پر اس ضمن میں بھروسہ کرتا ہے۔

مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت

یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دیتا ہے بلکہ مسلم دنیا کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد اور باہمی تعاون سے ممکن ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ موقف اور خطے میں طاقت کا نیا توازن اس پیش رفت کو مزید نمایاں بناتا ہے۔

بشکریہ: الجزیرہ

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹریٹجک تعاون پاکستان دفاعی معاہدہ سعودی عرب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹجک تعاون پاکستان دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ پاک سعودی رہے ہیں سکتا ہے دنیا کے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان