پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست پر اثرات
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو ماہرین نہ صرف ایک تاریخی پیشرفت قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے موجودہ حالات میں فلسطین کی حمایت کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب سے باہمی مفادات کا خیال رکھنے کی توقع ہے، بھارت کا پاک سعودی معاہدے پر ردعمل
دونوں ممالک نے زور دیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت ہے، اور یہ معاہدہ اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر اور دیرینہ تعلقاتپاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ گہرے اور قریبی رہے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا، خصوصاً حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی معاہدے عرصہ دراز سے موجود رہے ہیں۔
A historic milestone has been achieved Pakistan and Saudi Arabia have signed a Strategic Mutual Defense Agreement, granting Pakistan the sacred honor of standing as a protector of the Haramain Sharifain.
This is more than a military pact; it is a divine and spiritual… pic.twitter.com/V7SrQEfizL
— Pakistan Strategic Prism (@PakStratprism) September 19, 2025
سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، خاص طور پر جب پاکستان عالمی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا شکار تھا۔
امریکا اور مغربی دنیا کے لیے پیغامیہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مسلم ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے اب مزید باہمی انحصار بڑھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی پیشرفت ہے، مشاہد حسین
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایران اور افغانستان کے خدشاتایران کے نزدیک یہ معاہدہ خطے میں اس کے اثرورسوخ کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے، جبکہ افغانستان کے حالات اور وسط ایشیائی خطے کی صورتحال بھی اس پیش رفت سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس معاہدے کو اپنے خلاف صف بندی سمجھ سکتا ہے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ بھارت کے لیے بھی نئی سفارتی اور اسٹریٹجک مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
نئی دہلی پہلے ہی خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسلام آباد اور ریاض کا اتحاد اس توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایٹمی پہلو اور اسٹریٹجک تعاونماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی تعاون چاہ سکتا ہے۔
اگرچہ یہ معاملہ حساس ہے، لیکن اس کے اشارے پچھلی دہائیوں سے موجود ہیں کہ ریاض اسلام آباد پر اس ضمن میں بھروسہ کرتا ہے۔
مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورتیہ دفاعی معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دیتا ہے بلکہ مسلم دنیا کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد اور باہمی تعاون سے ممکن ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ موقف اور خطے میں طاقت کا نیا توازن اس پیش رفت کو مزید نمایاں بناتا ہے۔
بشکریہ: الجزیرہآپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹریٹجک تعاون پاکستان دفاعی معاہدہ سعودی عرب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹجک تعاون پاکستان دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ پاک سعودی رہے ہیں سکتا ہے دنیا کے کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔