شمالی سمندر کے نیچے کشودرگرہ کا 43 ملین سال پرانا گڑھا دریافت
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کے ساحل سے 80 میل دور شمالی سمندر کی تہہ میں موجود’’سلور پٹ‘‘ نامی گڑھا ایک کشودرگرہ کے ٹکراؤ سے وجود میں آیا تھا۔ یہ کشودرگرہ تقریباً 43 ملین سال قبل زمین سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 100 میٹر اونچی سونامی آئی۔
یہ گڑھا تقریباً 2 میل چوڑا ہے اور 12 میل چوڑے دائرہ نما فالٹس سے گھرا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کشودرگرہ تقریباً ایک ’’کیتھیڈرل‘‘ کے سائز کا تھا، جو سمندر میں گرا اور زمین کی سطح پر نمایاں تبدیلی لایا۔
یہ دریافت حالیہ جدید زلزلہ امیجنگ، چٹانوں کے خوردبینی تجزیے، اور عددی ماڈلز کے ذریعے کی گئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایڈنبرا کی ہیریوٹ واٹ یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ڈاکٹر اوسڈیان نکلسن نے کی، جن کا کہنا ہے کہ یہ زمین پر محفوظ رہ جانے والے چند نایاب سمندری اثرات میں سے ایک ہے۔
اگرچہ یہ گڑھا میکسیکو کے معروف کریٹر جتنا بڑا نہیں، جس نے 66 ملین سال قبل ڈائنوسارز کا خاتمہ کیا، لیکن یہ برطانیہ کے قریب دریافت ہونے والا واحد بڑا اثر انگیز گڑھا ہے، اور زمین پر کشودرگرہ کے اثرات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔