سپر ہائی وے کی زمین کا تنازع، سندھ حکومت کا این ایچ اے کو بغیر قیمت زمین دینے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کراچی: سندھ حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے درمیان ایم 9 سپر ہائی وے کی زمین کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔
این ایچ اے نے ایم 9 سپر ہائی وے کی زمین کی قیمت ادا کرنے سے انکار کر دیا جبکہ سندھ حکومت نے زمین دینے سے روک دیا ہے۔
زمین کے تنازع پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا جس پر عدالت نے معاملہ حل کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
چیف سیکرٹری سندھ کی زیر صدارت کمیٹی نے زمین کی قیمت ادا کرنے کی سفارش کر دی جبکہ این ایچ اے چیئرمین نے چیف سیکرٹری سندھ کو زمین منتقلی کے لیے خط لکھ دیا۔
ایم 9 سپر ہائی وے کو 4 سے 6 لین موٹروے میں توسیع دینے کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور اس حوالے سے ملائیشین کمپنی کے ساتھ معاہدے کی توسیع جاری ہے۔
سندھ حکومت نے 2012 میں زمین کی الاٹمنٹ قیمت کی ادائیگی سے مشروط کی تھی جبکہ سرکاری رپورٹ کے مطابق این ایچ اے کے پاس زمین کی ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں ہے۔
ایم 9 سپر ہائی وے کے لیے ملیر میں 1347، جامشورو میں 4954 اور ٹھٹھہ میں 1340 ایکڑ زمین درکار ہے جبکہ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کی رپورٹ میں سپر ہائی وے ریکارڈ میں 264 فٹ چوڑائی ظاہر کی گئی ہے۔ این ایچ اے نے سپر ہائی وے کی چوڑائی 640 فٹ تک بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق سپر ہائی وے 152 کلو میٹر طویل، این ایچ اے نے صرف 136 کلومیٹر کے لیے درخواست دی، تاہم ضلع شرقی کراچی کے لیے این ایچ اے نے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔
سندھ حکومت نے 2017 میں زمین الاٹمنٹ کا فیصلہ منسوخ کر دیا تھا جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ زمین کا تنازع 30 دن میں حل کیا جائے۔ عدالت نے متنازع زمین کا مشترکہ سروے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایم 9 سپر ہائی وے سپر ہائی وے کی ایچ اے نے سندھ حکومت زمین کی کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔