ویکسینیشن: نسلوں کی نسل کشی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250921-03-6
جاوید انور
نام نہاد ’’سرویکل ویکسین‘‘، جسے HPV (ہیومن پاپیلوما وائرس) ویکسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انسانیت کی مستقبل پر ایک ہتھیار بند حملے سے کم نہیں ہے۔ جب پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنانے والی HPV ویکسین مہم کی خبر ملی جو 15 سے 27 ستمبر 2025 تک چل رہی ہے، تو میرے اندرونی الارم کی گھنٹیاں پہلے سے زیادہ شدت سے بجنے لگیں۔ میں نے برسوں سے بگ فارما کی دھوکا دہی اور انسان مخالف سازشوں پر نظر رکھی ہوئی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی شیطانی کتاب کا ایک اور باب ہے۔ بگ فارما، فورڈ فاؤنڈیشن اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن جیسی نام نہاد ’’خیراتی‘‘ تنظیموں کے ساتھ مل کر، تیسرے دنیا کے ممالک خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک جیسے پاکستان کو مفت COVID، پولیو، اور HPV ویکسینوں سے بھر رہا ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں؛ یہ ایک سوچی سمجھی آبادی گھٹانے کی سازش ہے۔ ان ویکسینوں کے تباہ کن ضمنی اثرات میں، بشمول اچانک اموات اور دل کے دورے کے ساتھ مردوں میں مستقل نامردی اور عورتوں میں بانجھ پن شامل ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ مسلم ممالک، پاکستان جیسے ملک کی نوجوان نسل کو نشانہ بنا کر پیدائش کی شرح کو کم کرنے کی ایک ہدف شدہ مہم ہے، تاکہ ان کی آبادیاتی طاقت اور تہذیبی تسلسل کو کمزور کیا جائے۔ کیا پاکستانیوں نے کبھی رک کر سوچا ہے کہ بل گیٹس کو ان کے بچوں سے اتنی ’’محبت‘‘ کیوں ہے؟ یہ آدمی فلسطینی بچوں کی نسل کشی اور دنیا بھر کی انسانی مصیبتوں پر آنکھیں بند رکھتا ہے، پھر بھی اس کی توجہ مسلم دنیا کے بچوں کو ویکسین لگانے پر مرکوز ہے۔ یہ چنندہ محبت اور منتخب پسندی کیوں ہے؟
اس کی ’’لامحدود‘‘ محبت کو پاکستان کی حکومت بھی تسلیم کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے پولیو ویکسین کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ سندھ کے چیف منسٹر نے COVID-19 اور پولیو شاٹس کو لازمی قرار دیا ہے، خاص طور پر کراچی میں۔ کوئی بھی اس ’’خاص محبت‘‘ کی تفتیش نہیں کرتا جو کراچی کی آبادی کو زبردستی انجیکشنوں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ سندھ حکومت ایک ’’پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ‘‘ چلا رہی ہے جو عورتوں پر فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، جس کا واضح ہدف آبادی کی افزائش کو روکنا ہے۔ ان کے ہتھیاروں میں حمل بندی کی مشاورت، مانع حمل ادویات جیسے گولیاں، کنڈوم، انجیکشن، IUDs، اور وہ ہر ممکن طریقہ جو بچوں کی پیدائش کو روکے، شامل ہے۔ ان کا سارا یا زیادہ زور کراچی پر ہے۔ تاہم دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کے محکمے موجود ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف قرضوں کی شرائط کا ایک حصہ ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے، وہ آئی ایم ایف بیل آؤٹس میں شامل ہر خفیہ ایجنڈا آئٹم کو ظاہر کرے، بشمول کسی بھی پوشیدہ آبادی کنٹرول کے احکامات۔
حکومتیں بھاری رشوتوں سے خریدی جاتی ہیں، این جی اوز کو مغربی فنڈز سے بھرا جاتا ہے، اور تعلیمی نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ فرمانبردار، سوال نہ کرنے والے غلام تیار کرے نہ کہ تنقیدی سوچ رکھنے والے افراد۔ پاکستان میں فیملی پلاننگ کو فروغ دینے والے این جی اوز مغربی آقاؤں سے فنڈڈ ہیں، اور اب ویکسینز اس خاموش قاتل کا حتمی ہتھیار بن گئی ہیں۔ لڑکیوں کی رحم میں ایک بائیو کیمیکل بم جو آنے والی نسلوں کو تباہ کر دے۔
جب میں نے پاکستان کی مہم کی خبر کینیڈین وکیل لیزا میرون (Lisa Miron) کو وہاٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی، تو ان کا فوری جواب خوفناک تھا: ’’اوہ میرے خدا۔ یہ بانجھ پن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کوئی شک نہیں‘‘۔ لیزا ویکسی نیشن کی سازشوں پر نظر رکھتی ہیں اور اپنے Substack بلاگ کے ذریعے دنیا کو خبردار کرتی ہیں۔
کووڈ 19 ویکسین رول آؤٹ کے آغاز پر، کینیڈین ماہرین نے حکومتوں، میڈیا، اور عوام کو ویکسینوں کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ ان کی ہر تنبیہ سچ ثابت ہوئی ہے۔ ان کے اثرات پیش گوئی سے کہیں زیادہ مہلک تھے۔ پھر بھی، حکام نے انہیں ’’سازشی تھیورسٹ‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور انسان مخالف ویکسین کارٹلز کیپبل کریلیشنز پتلے بن گئے۔ یاد رکھیں کووڈ 19 بیماری اور کووڈ 19 ویکسینز الگ الگ چیزیں ہیں۔ وائرس کی ابتدا اور علاج الگ بحثیں ہیں، لیکن ویکسینز؟ ماہرین نے خبردار کیا تھا: 1) طویل مدتی ضمنی اثرات برسوں تک پوشیدہ رہ سکتے ہیں؛ 2) پہلے کورونا وائرس ویکسین کبھی منظور نہیں ہوئی کیونکہ جانوروں پر ٹیسٹ میں مہلک اثرات تھے؛ 3) یہ شاٹس انفیکشن یا ٹرانسمیشن کو روکتے نہیں؛ 4) جلد بازی میں پروٹوکولز نے ویکسی نیشن کو غیر اخلاقی انسانی تجربہ بنا دیا۔
متبادل میڈیا اور سائنسی جریدوں کی یہ ہولناک پیش گوئیاں نہ صرف درست تھیں بلکہ وہ کم تھیں۔ تباہی ناقابل بدل ہے: لاکھوں ہلاک ہوگئے، بھارت کے لوگوں کو دل کے دوروں اور صحت کے ناقابل تلافی نقصان کا غیر متناسب بوجھ اٹھانا پڑا۔ مشکوک طور پر امریکا سے آنے والی کووڈ ویکسینز دنیا بھر میں مختلف بیچ نمبروں کے ساتھ بھیجی گئیں، جو مختلف قوموں کو مختلف نقصان پہنچانے کے لیے تیار کردہ فارمولیشنز کے خدشات کو ہوا دیتی ہیں۔ یورپی یونین کمیشن نے بھی تسلیم کیا ہے کہ کووڈ ویکسینز کو آبادی پر مناسب حفاظتی ڈیٹا کے بغیر لگایا گیا ہے۔ آسٹریائی MEP جیرالڈ ہاؤزر نے مطالبہ کیا: ’’کمیشن نے شہریوں کو کیوں نہیں بتایا کہ جی ایم ویکسینوں کی تاثیر اور حفاظت جیسا کہ معاہدے میں کہا گیا ہے۔ کی ضمانت نہیں تھی؟
دو تازہ دھماکا خیز کتابیں بگ فارما کی انسانیت کے خلاف جرائم کو بے نقاب کرتی ہیں: ’’دی فائزر پیپرز‘‘ از ناؤمی وولفThe Pfizer Papers by Naomi Wolf، جو فائزر کے اپنے دستاویزات سے ناقص ٹرائلز اور معلوم نقصانات کو ظاہر کرتی ہے، اور ’’دی کریج ٹو فیس کووڈ 19: پریونٹنگ ہاسپیٹلائزیشن اینڈ ڈیتھ وائل بیٹلنگ دی بائیو فارمیسیوٹیکل کمپلیکس‘‘ از جان لیک اور پیٹر اے۔ مک کالو ایم ڈی، THE COURAGE TO FACE COVID-19 Preventing Hospitalization and Death While Battling the Bio-Pharmaceutical Complex” by John Leake and Peter A.
پاکستانیو، اٹھو! اس زہر کو دوا کے روپ میں مسترد کرو۔ تمہارے بچوں کی زرخیزی، تمہاری قوم کا مستقبل داؤ پر ہے۔ احتساب کا مطالبہ کرو، سازشیوں کو بے نقاب کرو، اور اس نسل کشی کی مشین کو توڑ دو قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے گیا ہے کووڈ 19
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی