Express News:
2026-06-03@07:26:45 GMT

ایف بی آر نے ملک بھر میں پورٹل کے ذریعے چینی کی فروخت روک دی

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر میں پورٹل کے ذریعے چینی کی فروخت روک دی جب کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے پورٹل کے ذریعے ملک بھر میں شوگر ملز کو چینی کی فروخت روکنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ درآمدی چینی کی فروخت اور قیمت پر کوئی پابندی نہیں ہے جو کہ کھلا تضاد ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قسم کی پالیسی اختیار کرنے سے مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہوگا اور چینی کی قلت کے باعث قیمتیں بڑھیں گی جس کے لیے شوگر انڈسٹری کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ تمام شوگر ملوں کو چینی فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شوگر ملز ایسوسی ایشن چینی کی فروخت

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا