حکومت مافیاز کی سرپرست بن گئی ہے: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
فائل فوٹو
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت مافیاز کے سامنے سرنڈر کر کے ان کی سرپرست بن گئی ہے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب، کوئٹہ، اسلام آباد کے عوام بلدیاتی انتخابات سے محروم ہیں۔ بلدیاتی ادارے فعال نہ ہونے سے عوام کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
لاہور نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے.
ان کا کہنا تھا کہ حکمران تسلیم کریں آئی ایم ایف شرائط ماننے سے زراعت و کسان کے لیے تباہی آئی۔ گندم، چینی، کپاس کے مسائل پر حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت نے مافیاز کے سامنے صرف سرنڈر ہی نہیں کیا بلکہ ان کی سرپرست بن گئی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کا سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، جماعت اسلامی نے عوامی کمیٹیاں بنانی شروع کردی ہیں جو مسائل کے حل کے لیے کام کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔