ڈیرہ اسماعیل خان ، سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، 7 خوارج واصل جہنم
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ “فتنۃ الخوارج” کے سات شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا، جن میں تین افغان باشندے اور دو خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ کارروائی 20 ستمبر کو ان خوارجی عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ اس آپریشن کے دوران علاقے میں دہشت گردوں کے ممکنہ سہولت کاروں اور باقی ماندہ عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ سات خوارجیوں کو جہنم واصل کر کے سیکیورٹی فورسز نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ریاست دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، اور دشمنوں کو ملک میں کہیں بھی پناہ نہیں ملنے دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔