لکی مروت(نیوز ڈیسک) لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کرلیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق لکی مروت میں سیکیورٹی فورسزکی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ 2 کو گرفتار کرلیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا، جن سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقہ کو کلیئر کردیا۔

واضح رہے کہ ملک میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز بھی بڑھ گئے ہیں۔

اگست 2025 پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے حوالے سے دہائی کا بدترین مہینہ ثابت ہوا ، جولائی کے مقابلے میں دہشتگردوں کے حملوں میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق اگست 2025 میں ملک میں عسکریت پسندی میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ جولائی کے مقابلے میں عسکری حملوں کی تعداد میں 74 فیصد اضافہ ہوا۔

پی آئی سی ایس ایس کے مطابق 143 دہشت گرد حملوں کے ساتھ اگست گزشتہ دہائی کا سب سے مہلک مہینہ بن گیا، اور فروری 2014 کے بعد سب سے زیادہ مہلک مہینہ ثابت ہوا۔

تشدد کی اس لہر کے نتیجے میں 194 افراد لقمہ اجل بنے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 62 شہری، 58 عسکریت پسند اور ایک سرکاری حمایت یافتہ امن کمیٹی کا رکن شامل ہے، اس دوران 231 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار، 92 شہری، 8 عسکریت پسند اور 2 امن کمیٹی کے رکن شامل ہیں جبکہ عسکریت پسندوں نے کم از کم 10 افراد کو اغوا بھی کیا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز لکی مروت کے مطابق

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا