پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں پولیس کی بہادری پر مبنی ڈاکیومنٹری ریلیز
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے کے پس منظر میں پولیس کی بہادری اور کردار پر مبنی ڈاکومینٹری ’دی پولیس اسٹوری‘ کا پریمئر کراچی کے ایک مقامی سینیما میں منعقد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکومینٹری کے پریمئر میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جیز سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے، تقریب کی مرکزِ نگاہ وہ تینوں بہادر پولیس اہلکار رہے جنہوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے دوران دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ 29 جون 2020 کو ہوا تھا، جب 4 مسلح افراد نے ایک گاڑی میں آ کر داخلی دروازے پر فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صرف 8 منٹ کے مختصر وقت میں چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
اس واقعے میں 1 پولیس اہلکار اور 3 سکیورٹی گارڈز شہید ہوئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ڈاکومینٹری میں پورے واقعے کی حقیقت سے قریب تر منظر کشی کی گئی ہے۔ دستاویزی فلم میں گیٹ پر تعینات اس ریپڈ رسپانس فورس کے بہادر پولیس اہلکار رفیق کی کامیاب کوشش کو دکھایا گیا جس نے کوئی آڑ نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر لیٹ کر ایسا انداز اپنایا جیسے وہ زندہ نہ ہو اور جیسے ہی پہلا دہشت گرد گیٹ سے داخل ہوا تو پولیس اہلکار رفیق نے لیٹی پوزیشن میں اسے سر پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔
https://youtu.
ایک اور دہشت گرد اندر داخل ہوتے ہی اس پولیس اہلکار کی گولیوں کا نشانہ بنا اور وہ بھی جہنم واصل ہوگیا۔ باقی دو دہشت گردوں کو پولیس اہلکار محمد سلیم اور خلیل نے نشانہ بنایا۔
پریمیئر شو سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ یہ ڈاکومینٹری پولیس کی غیر معمولی کارکردگی کو اجاگر کرتی ہے، اہلکاروں نے چند منٹ میں دہشت گردوں کو جہنم واصل کرکے ملک کو بڑے سانحے سے بچایا، میں اس پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے حقیقت سے قریب تر ڈاکومینٹری بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پولیس کے اچھے کام زیادہ نمایاں نہیں ہوپاتے اور اکثر ادارے کا تاثر منفی دکھایا جاتا ہے اس سے فورس کا مورال متاثر ہوتا ہے۔ پولیس کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے.
اس ڈاکومینٹری میں شامل تینوں اہلکار محمد سلیم، رفیق اور خلیل پریمئر میں بھی موجود تھے اور حاضرین کی بھرپور توجہ کا مرکز بنے رہے۔ بہادر اہلکاروں نے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہمارے ذہن میں صرف شہادت اور ملک کی سلامتی کا جذبہ تھا، گھر اور ذاتی زندگی بعد کی بات تھی۔
راوا ڈاکومینٹریز فلمز پروڈکشنز کے ڈائریکٹر سید عاطف علی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں پولیس فورس کے کارنامے عوام کے سامنے نہیں آپاتے۔ اس ڈاکومینٹری کا مقصد ان غیر معمولی کاوشوں کو منظرِ عام پر لانا ہے تاکہ عوام کو احساس ہوسکے کہ پولیس کس طرح اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کرتی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر پولیس اہلکار کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔