وزیراعلیٰ پنجاب کا پنجاب میں کچرا ٹھکانے لگانے کا جدید منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
پنجاب حکومت کے حکم نامے کے مطابق سرکاری و نجی درس گاہوں میں 5 رنگ کے کوڑے دان رکھے جائیں۔ سینئر وزیر موحولیات اینڈ کلائمٹ چینج منصوبے کی نگرانی کریں گی، وزیرِ تعلیم اور وزیر لوکل گورنمنٹ کو ٹارگٹس سونپ دیئے گئے، 30 ستمبر تک تمام سکولوں میں رنگوں والے کوڑے دان لگانے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کچرا جمع کرنے کیلئے رَنگ دار کوڑے دان استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔ پہلے مرحلے میں "سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پراسیس" پنجاب بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں نافذ کرنے کی منظوری دے دی گئی، پنجاب حکومت کے حکم نامے کے مطابق سرکاری و نجی درس گاہوں میں 5 رنگ کے کوڑے دان رکھے جائیں۔ سینئر وزیر موحولیات اینڈ کلائمٹ چینج مریم اورنگزیب منصوبے کی نگرانی کریں گی، رانا سکندر وزیرِ تعلیم اور ذیشان ملک وزیر لوکل گورنمنٹ کو ٹارگٹس سونپ دیئے گئے، 30 ستمبر تک تمام سکولوں میں رنگوں والے کوڑے دان لگانے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی۔
اس حوالے سے یکم اکتوبر سے معائنہ شروع ہوگا اور رنگ دار کوڑے دان نہ رکھنے پر جرمانے ہوں گے، الگ الگ رنگ کے کچرے کے ڈبوں میں الگ الگ قسم کا کوڑا کرکٹ جمع کیا جائے گا، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ پیلے رنگ کے ڈبوں میں کاغذ اور ردی جمع کی جائے گی، سبز رنگ کے ڈبوں میں بوتلیں، کانچ کے ٹکڑے، لیبارٹری میں استعمال ہونے والا ضائع شدہ سامان ڈالا جائے گا۔ سُرمئی (گرے) رنگ میں پھلوں کے چھلکے، ضائع شدہ کھانا، پتے اور گلی سڑی سبزیاں پھینکی جائیں گی، لال رنگ کے کچرے کے ڈبے لوہے اور دیگر دھاتی کوڑے کیلئے استعمال ہوں گے، جبکہ نارنجی (اورنج) ڈبے پلاسٹک ویسٹ کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔
ان اشیاء کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا، اس جدید طریقے کا مقصد کچرے کی مقدار میں کمی لانا اور ماحول دوست رویوں کو فروغ دینا ہے۔ پنجاب مینجمنٹ ہیلپ لائن (1139) پر تعلیمی ادارے کچرے کو اٹھانے کیلئے رابطہ بھی کر سکتے ہیں، لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ رنگدار کوڑے دانوں کے انتظام میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ ماحولیات کے تحفظ کا ادارہ (ای پی اے) تعلیمی اداروں میں اس طریقہ کار کے نفاذ کو یقینی بنائے گا، ای پی اے ٹیم درس گاہوں کا معائنہ بھی کرے گی، معیار پر پورا اترنے والے تعلیمی اداروں کو ای پی اے کی جانب سے سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوڑے دان جائے گا رنگ کے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔