مودی نے بھارتیوں سے غیرملکی مصنوعات ترک کرکے مقامی مصنوعات استعمال کرنے کی اپیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
مودی نے بھارتیوں سے غیرملکی مصنوعات ترک کرکے مقامی مصنوعات استعمال کرنے کی اپیل کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 21 September, 2025 سب نیوز
نئی دہلی(آئی پی ایس ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے خطاب میں بھارتی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی مصنوعات کا استعمال ترک کریں اور مقامی اشیا کو اپنائیں تاکہ ملک میں خود انحصاری کی مہم کو فروغ دیا جا سکے۔مودی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے ساتھ بھارت کے تجارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مودی بارہا سودیشی یعنی بھارت میں تیار کردہ مصنوعات کے استعمال پر زور دے چکے ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق مودی کے حامیوں نے امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے جن میں میک ڈونلڈز، پیپسی اور ایپل شامل ہیں جو بھارت میں بے حد مقبول ہیں۔
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم روزمرہ استعمال کی بہت سی ایسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جو غیر ملکی ہیں، ہمیں اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وہی اشیا خریدنی چاہئیں جو بھارت میں تیار کی جاتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔مودی نے تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں تاکہ بھارت کی خود کفالت اور اقتصادی ترقی میں تیزی آئے۔
مودی نے دکانداروں کو بھی کہا کہ وہ صرف بھارت میں تیار ہونے والی مصنوعات کی فروخت پر توجہ دیں تاکہ ملکی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتوں میں کئی کمپنیوں نے مقامی مصنوعات کی تشہیر میں اضافہ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کے حامل بھارت کو امریکی مصنوعات کے لیے ایک بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے، جو زیادہ تر آن لائن ریٹیلر ایمیزون کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں اور گزشتہ برسوں میں امریکی برانڈز کی رسائی بھارت کے چھوٹے شہروں تک بھی پھیل چکی ہے۔
مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جی ایس ٹی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی اصلاحات کے تحت اب زیادہ تر روزمرہ کی ضروریات پر صرف 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہوں گے۔ اس سے کھانے پینے، دواسازی، روزمرہ کی اشیا اور دیگر خدمات پر خرچ کم ہوگا، جبکہ کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی برادری اسرائیل و بھارت کی جارحیت اور مظالم کو فوری طور پر بند کرائے، بلاول بھٹو لاہور اور بہاولپور سے نوعمر بچوں کے غیر قانونی اغوا اور حبس بے جا میں رکھنے کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل کیس... امریکا کی پارٹی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے، پوپ لیو کا اعلان امریکی ایچ ون-بی ویزا کی نئی فیس سے متعلق وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کردی اسرائیل سے خطرہ، مصر نے صحرائے سینائی میں فوج تعینات کردی برطانوی وزیراعظم آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے پاک سعودی معاہدہ معرکہ حق کی مرہون منت ہے، معاشی ثمرات بھی سامنے آئیں گے، خواجہ آصف
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :