رہنما تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ وہ جلد سرکاری گاڑی چیئرمین سینیٹ کو ہینڈ اوور کردیں گے، استعفیٰ بھی ابھی تک جمع نہیں کروا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پارٹی کو سینیٹ کمیٹیوں سے بھی مستعفی ہونے کی ہدایت، چند روز میں نیا لائحہ عمل دینے کا اعلان

صحافی نے بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ آپ نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا ہے تو پھر سرکاری گاڑی کیوں استعمال کررہے ہیں؟ کیا استعفی منظور نہیں ہوا؟ جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ابھی تک استعفیٰ جمع نہیں کروا سکے ہیں، جب حکم آئے تو گاڑی بھی واپس کردیں گے۔

قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا تو سرکاری گاڑی کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ صحافی کا سوال
یہ گاڑی اُس وقت واپس کریں گے جب باقاعدہ حکم آئے گا، کیونکہ استعفیٰ ابھی تک جمع نہیں کروا سکے۔ گاڑی کو ہوا میں تو نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔بیرسٹر علی ظفر pic.

twitter.com/Ic3RBpaKWj

— WE News (@WENewsPk) September 23, 2025

صحافی نے پھر سوال کیا کہ تحریک انصاف کے کسی سینیٹر نے ابھی تک گاڑی واپس نہیں کی؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بارے میں انہیں کوئی پتا نہیں، ہم نے گاڑیاں ہوا میں تو نہیں چھوڑنی، ہینڈ اوور کرنی ہیں، آپ فکر نہ کریں ہم گاڑیاں ہینڈ اوور کردیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news استعفی پی ٹی آئی سرکاری گاڑیاں علی ظفر قائمہ کمیٹیاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استعفی پی ٹی ا ئی سرکاری گاڑیاں علی ظفر قائمہ کمیٹیاں بیرسٹر علی ظفر سرکاری گاڑی کمیٹیوں سے ابھی تک

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف