قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹرز نے سرکاری گاڑیاں واپس کیوں نہیں کیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
رہنما تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ وہ جلد سرکاری گاڑی چیئرمین سینیٹ کو ہینڈ اوور کردیں گے، استعفیٰ بھی ابھی تک جمع نہیں کروا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پارٹی کو سینیٹ کمیٹیوں سے بھی مستعفی ہونے کی ہدایت، چند روز میں نیا لائحہ عمل دینے کا اعلان
صحافی نے بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ آپ نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا ہے تو پھر سرکاری گاڑی کیوں استعمال کررہے ہیں؟ کیا استعفی منظور نہیں ہوا؟ جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ابھی تک استعفیٰ جمع نہیں کروا سکے ہیں، جب حکم آئے تو گاڑی بھی واپس کردیں گے۔
قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا تو سرکاری گاڑی کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ صحافی کا سوال
یہ گاڑی اُس وقت واپس کریں گے جب باقاعدہ حکم آئے گا، کیونکہ استعفیٰ ابھی تک جمع نہیں کروا سکے۔ گاڑی کو ہوا میں تو نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔بیرسٹر علی ظفر pic.
— WE News (@WENewsPk) September 23, 2025
صحافی نے پھر سوال کیا کہ تحریک انصاف کے کسی سینیٹر نے ابھی تک گاڑی واپس نہیں کی؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بارے میں انہیں کوئی پتا نہیں، ہم نے گاڑیاں ہوا میں تو نہیں چھوڑنی، ہینڈ اوور کرنی ہیں، آپ فکر نہ کریں ہم گاڑیاں ہینڈ اوور کردیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news استعفی پی ٹی آئی سرکاری گاڑیاں علی ظفر قائمہ کمیٹیاں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی پی ٹی ا ئی سرکاری گاڑیاں علی ظفر قائمہ کمیٹیاں بیرسٹر علی ظفر سرکاری گاڑی کمیٹیوں سے ابھی تک
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔