مستونگ:ریلوے ٹریک پر دھماکا، بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں متعدد مسافر زخمی ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریلوے حکام کاکہنا ہے کہ واقعہ مستونگ کے علاقے دشت میں پیش آیا, دھماکے کے بعد ریل گاڑی کی کئی بوگیاں الٹ گئیں، جس سے ٹرین میں سوار افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
لیویز حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، اسپتال انتظامیہ نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے اضافی عملہ طلب کرلیا ہے تاکہ متاثرین کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جنہیں ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
ترجمان پاکستان ریلویز کے مطابق حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے، ریلیف ٹرین اور کرین جائے حادثہ کی طرف روانہ کردی گئی ہیں تاکہ پٹری پر موجود بوگیوں کو ہٹایا جاسکے اور ریل سروس بحال کی جاسکے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ دھماکے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے اشارہ مل رہا ہے کہ یہ واقعہ تخریب کاری کا نتیجہ ہوسکتا ہے تاہم حتمی صورتحال تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ مقامی انتظامیہ اور ریلویز کے اعلیٰ افسران بھی جائے حادثہ کی طرف روانہ ہیں۔
حادثے کے باعث کوئٹہ کی طرف آنے اور جانے والی ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ کراچی اور پشاور کی جانب روانہ ہونے والی متعدد ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے جبکہ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک کی بحالی کے بعد ٹرین سروس بتدریج بحال کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔