سمندری طوفان ’رگاسا ‘ چین میں داخل، 10 شہروں میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سمندری طوفان رگاسا چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے ٹکرا گیا، 10 شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق طوفان رگاسا کے پیش نظر تعلیمی ادارے اور دفاتر بند کردیئے گئے جبکہ ٹرانسپورٹ ،کاروباری سرگرمیاں اور پروازیں معطل کردی گئی ہیں، شہریوں کوگھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 4لاکھ سے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا، چین میں سپر ٹائیفون رگاسا کے پیش نظر سپر مارکیٹس میں کھانے پینے کی اشیا کے شیلف خالی ہوگئے۔
دوسری جانب فلپائن کے شمالی حصے میں سپر سمندری طوفان ’’راگاسا‘‘ کے باعث تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے پیش نظر 10 ہزار سے زائد افراد کو سکولوں اور ایمرجنسی مراکز سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح کے وقت طوفانی ہواؤں کی رفتار 215 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی اور بعض اوقات ان کی رفتار 265 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی اور یہ مغرب کی سمت بابویاں جزائر کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث طوفان زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔