Jasarat News:
2026-06-03@04:39:09 GMT

اٹلی: فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر ہنگامے پھوٹ پڑے

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر اٹلی میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جس کے نتیجے میں 60 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اٹلی کے مختلف شہروں میں دس ہزار سے زائد افراد نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے اور غزہ پر اسرائیلی حملے اور اٹلی کی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا، ان مظاہروں کا حصہ ایک ملک گیر ہڑتال ’’سب کچھ بند کردو‘‘ تھی جسے مزدور تنظیموں نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف منظم کیا تھا۔

اٹلی کے دوسرے بڑے شہر میلان میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین نے مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر ہنگامہ آرائی کی۔

پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، ان جھڑپوں میں 60 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 10 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، مظاہرین نے نہ صرف سڑکوں پر دھرنے دیے بلکہ بندرگاہوں پر بھی کام بند کر دیا۔

اٹلی کے وزیرِاعظم جیورجیا میلونی غزہ پر اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اپوزیشن کے نشانے پر ہیں، انہوں نے ان مظاہروں اور پرتشدد واقعات کو شرمناک قرار دیا۔

اگرچہ رواں ماہ اٹلی نے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کی حمایت میں ووٹ دیا تھا تاہم میلونی حکومت نے تاحال فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جس کے نتیجے میں احتجاج کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وینس کی بندرگاہ پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا، اسی طرح جینوا، لیورنو اور تریئستے کی بندرگاہوں پر بھی کارکنوں نے اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر رسد کی ترسیل روکنے کے لیے مظاہرے کیے گئے ہیں۔

بولونیا میں مظاہرین نے ہائی وے بلاک کی، گاڑیوں کو روکا اور پھر پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد واٹر کینن سے منتشر کیے گئے۔

روم میں ہزاروں افراد نے ریلوے اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر مارچ شروع کیا، جس سے ایک مرکزی رنگ روڈ بند ہو گئی، مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”فلسطین آزاد کرو“، ”سب کچھ بند کرو“ کے نعرے درج تھے۔

اٹلی کے جنوبی شہر نیپلز میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جب ہجوم نے مرکزی ریلوے سٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، کچھ مظاہرین نے ریلوے ٹریک پر چڑھ کر وقتی طور پر ٹرینوں کی آمد و رفت میں تاخیر پیدا کی، شمال مغربی شہر جینوا میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے فلسطینی پرچم لہرایا اور بندرگاہ کے گرد احتجاج کیا۔

یہ مظاہرے ایسے وقت پر ہوئے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید کئی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلانات کیے گئے، حالیہ دنوں میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، پرتگال اور فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِاعظم میلونی نے میلان اور دیگر شہروں میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تباہی غزہ میں کسی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی، اس طرح کے مظاہرے بے معنی ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر میکرون کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حماس کے لیے انعام ہے۔

غزہ میں جاری جنگ جسے آئندہ ماہ دو سال مکمل ہوجائیں گے اب تک وہاں 65 ہزاد سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک، جن میں اسپین اور ناروے شامل ہیں، پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کو تسلیم مظاہرین نے تسلیم نہ اٹلی کے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد