وائٹ ہاؤس نے وینزویلا کے صدر کی بات چیت کی دعوت مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب وینزویلا کی 2اہم شخصیات نے امریکی بحری موجودگی کی حمایت کی اور اسے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ ٹرمپ نے جنوبی کیریبین میں منشیات مخالف کارروائی کے لیے 8جنگی جہاز اور ایک سب میرین بھیج دی ہے جس سے وینزویلا کو خدشہ ہے کہ یہ کسی ممکنہ حملے کی تیاری ہو سکتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی افواج نے 3کشتیوں کو تباہ کیا جو مشتبہ طور پر منشیات لے جا رہی تھیں، جس کے نتیجے میں 12 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔اس تناظر میں مادورو نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے امن قائم رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔