یمن کی سعودی اتحاد کو اندرونی معاملات میں مداخلت پر وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبے فتنہ اور افراتفری پھیلانے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ ہتھکنڈے درحقیقت یمن کو فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی حمایت سے روکنے میں امریکا اور برطانیہ کی واضح ناکامی کے بعد ایک متبادل کوشش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمن پر فریب نعروں کا استعمال کرتے ہوئے، ملک کی تقسیم اور انتشار پھیلانے کے لئے سازشوں اور خفیہ مںصوبوں کا اجرا کرنا چاہتا ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبے فتنہ اور افراتفری پھیلانے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ ہتھکنڈے درحقیقت یمن کو فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی حمایت سے روکنے میں امریکا اور برطانیہ کی واضح ناکامی کے بعد ایک متبادل کوشش ہے۔
یمنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مجرمانہ کارروائیاں اس وقت کی جا رہی ہیں جب ہمارے ملک کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے اور جارحیت کے باوجود صیہونی حکومت فلسطینی عوام کی حمایت سے یمن کی طرف سے ہونیوالی فوجی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ یمن کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں اپنے اندرونی معاملات میں سعودی اتحاد کی مداخلت کی مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال امریکی اور صیہونی دشمنوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے کرائے کے فوجیوں اور غداروں پر بھاری رقم خرچ کی، ان رقوم کو کرائے کے فوجیوں پر خرچ کرنے کا مقصد کچھ قومی مواقع کو غلط استعمال کرنے اور انہیں افراتفری پھیلانے اور ملکی یکجہتی کو نشانہ بنانے کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔