پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں نوجوانوں کی تعداد 60 فیصد کے قریب ہے۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ایک بہت بڑا امکان بھی ہے اور خطرہ بھی۔ امکان اور خطرے کا تعلق سرکاری پالیسی سے ہے۔ اس آبادی کو ہنر مند بنایا جا رہا ہے، اس کے لیے روزگار کاروبار اور تفریح کے مواقع موجود ہیں تو ملک کی ترقی کی رفتار کو پر لگ جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے تو پھر بیٹھے ہیں سوشل میڈیا پر اور آتما رول رہے ہیں اپنی سب کی۔

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کی درجہ بندی میں ہمارا نمبر 164 واں ہے۔ روانڈا اک ایسا ملک ہے جو شدید انتشار اور خانہ جنگی کا شکار رہا ہے ۔ 2019 میں اس کا گروتھ ریٹ 9 اشاریہ 45 فیصد رہا۔ اگلے 4 سال میں یہ منفی 3 فیصد سے تقریبا 11 فیصد اور 2022 اور 23 میں 8 فیصد سے زیادہ رہا۔ اس ترقی کی وجہ معیشت میں خواتین کی شمولیت، ڈیجیٹل سرمایہ کاری، بہتر گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بتایا جاتا ہے۔

ترقی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لانگ ٹرم پالیسی بنائی جائیں۔ ان پالیسیوں میں تسلسل ہو، گورننس بہتر ہو، عدالتی نظام موثر اور شفاف ہو، سول بیوروکریسی ایکٹیو، مقامی حکومتوں کا نظام کام بھی کرتا ہو اور لوگوں کو مقامی سطح پر شمولیت کا احساس بھی دلوائے اور ان کو سروس بھی فراہم کر رہا ہو۔ اس سب کو دیکھیں تو مقامی حکومتیں ہیں ہی نہیں۔ ہمارا نظام انصاف سفارتی اور معاشی معاملات میں جا گھستا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے جس میں انصاف کا مورچہ بنچ اور بار نے خالی چھوڑ رکھا ہے۔ جیسے حوالدار بشیر سے کہہ رکھا ہو کہ تیریاں تو ہی جانے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، لڑائیوں کا خیال بھی شاید اب نہ آئے

جو ملک معیشت کے حوالے سے بڑا سوچتے ہیں۔ وہ ریجنل کنیکٹویٹی، کاریڈور، باہمی تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی سفارت کاری میں بزنس پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ الحمدللہ اس محاذ پر مکمل ٹھنڈ ہے۔ چین سے زمینی تجارت 2 مہینے سے بند ہے، وجہ خود پتا کر لیں۔ بلوچستان کے ساتھ ایرانی باڈر حال ہی میں بند ہونے سے تجارت کو فائر وج گیا ہے اور مقامی آبادی کو روزہ رکھوا دیا گیا ہے، انڈیا سے تجارت توبہ توبہ۔

افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت پی پی حکومت میں زور پکڑ کر 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ پھر اس کو نظر لگ گئی اور یہ گرتی رہی۔ اس تجارتی حجم میں پاکستان کو ایک ڈیڑھ ارب سالانہ فائدہ ہو رہا تھا۔ اس فائدے کو 20 سال کے ساتھ حساب کریں تو اندازہ ہو گا کہ ہمارا تجارتی خسارہ کتنا کم ہوتا اگر صرف افغانستان کے ساتھ تجارت جاری رہتی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ افغانستان سے پاکستان آ کر جو دہشتگرد حملے کر رہے ہیں۔ ان میں افغانوں کی تعداد جو کبھی 10 فیصد بھی نہیں ہوتی تھی اب 70 فیصد کے قریب ہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بعد اکثر پاکستانی یہ پوچھتے پائے گئے کہ اس میں ہمارا فائدہ کیا ہو گا۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہمیں پیسے کتنے ملیں گے۔ یہ پوچھنے والے یہ نہیں دیکھتے جو پیسے لگائے گا تو کمانے کے لیے لگائے گا یا ڈبونے کے لیے۔ ٹریڈ کا حال ہمسایہ ملکوں کے ساتھ سامنے ہے۔ تو جواب کا اندازہ بھی اسی سے لگا لیں۔

مزید پڑھیے: چھوٹی، بڑی عینک اور پاکستان بطور ریجنل پاور

 آئی ایم ایف اور سعودی عرب کے تعلقات سمجھیں تاکہ مزہ ڈبل آئے۔ سعودی عرب نے کبھی آئی ایم ایف سے کوئی بیل آؤٹ پیکج یا قرض نہیں لیا۔ آئی ایم ایف کا آرٹیکل فور ہر ممبر ملک کو سالانہ بنیاد پر مشاورت کا پابند بناتا ہے۔ مالیاتی، اقتصادی اور زری پالیسیوں پر یہ مشاورت کی جاتی ہے۔ اس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد متعلقہ ملک کا دورہ کرتا ہے۔ وزارت خزانہ، مرکزی بنک، نجی شعبے اور سول سوسائٹی سے ملاقات کر کے معاشی کارکردگی، پالیسی، درپیش خطرات اور اصلاحات کا جائزہ لیتا ہے۔ پھر یہ رپورٹ ایگزیکٹیو بورڈ کو پیش کی جاتی ہے۔

آئی ایم ایف نے سعودی معیشت کو 2025 میں مضبوط، متنوع، اور اصلاحات سے بھرپور قرار دیا ہے۔ سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی تعریف کی ہے۔ معیشت میں خواتین کی شمولیت اس کو ڈیجیٹل کرنے اور تیل پر انحصار کم کرنے کو سراہا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے نام کی جس طرح ہم سب مجلس پڑھتے ہیں۔ وہ یاد کریں اور سعودی عرب کی آئی ایم ایف سے مشاورت اور ہم آہنگی دیکھیں۔ اک عالمی نظام میں کوئی بھی ملک کسی کو بغیر حساب اور وجہ کے پیسے دے تو اس پر بھی قسم ہا قسم کے چیک موجود ہیں۔

 ہم آئیڈیاز اور منصوبوں کا کباڑ جمع کر کے بیٹھے ہیں۔ خیر سے لانگ ٹرم منصوبوں کو دھوم دھام سے شروع کرتے ہیں اور پھر وہ کب کیسے ختم ہوئے کسی کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کب اسٹور میں کباڑ کی صورت پھینک دیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا انفراسٹرکچر، حکومتی ڈھانچہ، ہیومن ریسورس، گورننس، مقامی حکومتوں کا نہ ہونا یہ سب اس قابل ہی نہیں ہے کہ اگر گروتھ بڑھے تو اس کو ہینڈل کر سکے۔ اس سارے سیٹ اپ کے ساتھ بڑا گروتھ ریٹ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ۔

چھوٹی سوچ کے ساتھ یوتھ کی اتنی بڑی تعداد کو کہیں کھپایا نہیں جا سکتا۔ اس وجہ سے یوتھ کی یہی بڑی تعداد ریاست کو اچھی طرح پنجابی والا کھپا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اے پیاری مہمان، سرحد پر باڑ لگ گئی

ہمیں سوچ کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے جو اتنی بڑی آبادی کو کام سے لگا سکے۔ یہ کام سے لگیں گے تو ترقی کا سائکل چلے گا، کاروبار نقصان کی بجائے فائدے میں چلیں گے۔ فائدہ دکھائی دے گا تو سرمایہ کاری بھی آ جائے گی۔

یہ سب خود کرنا ہے، کوئی بھی باہر سے آ کر اتنی بڑی آبادی کو نہیں پال سکتا۔ بڑا سوچیں، اتنا بڑا جتنی بڑی آبادی ہے جتنی اس کی ضرورت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

آئی ایم ایف پاک سعودی معاہدہ پاکستان سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پاک سعودی معاہدہ پاکستان آئی ایم ایف بڑی آبادی آبادی کو اتنی بڑی کے ساتھ نہیں ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم