غزہ کی جانب رواں گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ ، انسانی مشن خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ کی جانب امدادی سامان اور انسانی ہمدردی کا پیغام لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ صمود فلوٹیلا پر فوری بین الاقوامی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے، مختصر وقت میں کم از کم 7 حملے کیے گئے، جن میں ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز، مشتبہ کیمیکل اسپرے، اور ریڈیو سسٹمز کی جامنگ شامل ہے۔ حتیٰ کہ کشتیوں سے باہر کی دنیا سے مدد کی کالز بھی بلاک کر دی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ایک کشتی کے قریب دس دھماکے ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹمز کو جام کیا جا رہا ہے۔
صمود فلوٹیلا کی رکن تھییاگو ایویلا نے ایک ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ ہم نے ابھی ابھی دسویں دھماکے کی آواز سنی ہے، وہ اب بھی ہمارے امن مشن پر حملے کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی سیلز تباہ کی جا رہی ہیں، وہ ایسے آلات استعمال کر رہے ہیں جو نہ صرف انسانوں کو زخمی کر سکتے ہیں بلکہ کشتیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تھییاگو ایویلا نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اس حملے کو دیکھے۔ ہمارا انسانی مشن، جو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہے، اس پر کھلم کھلا حملہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، فرانچسکا البانیزے نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ تمام حملے ایک ایسے مشن پر ہو رہے ہیں جو صرف غزہ کے مظلوم عوام تک خوراک، ادویات، اور بنیادی ضروریات کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
خیال رہےکہ غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں جب کہ عالمی ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم حکمران بھی بے حسی اور مصلحت کا لبادہ اوڑھے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جو امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا رہے ہیں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔