او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اجلاس کی صدارت او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کی جبکہ پاکستان، آذربائیجان، ترکیہ، سعودی عرب اور نائجر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں او آئی سی سیکریٹریٹ، انسانی حقوق کمیشن اور کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کی بریفنگ کے بعد، گروپ کے وزرائے خارجہ نے کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی گونج، او آئی سی کا پاکستان سے اظہارِ یکجہتی، بھارتی پالیسیوں کی مذمت
شرکا نے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ بھارتی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم اجلاس نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سیزفائر کا خیر مقدم کیا اور ثالثی کے لیے کوشش کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
Meeting of the OIC Contact Group on Jammu & Kashmir on the Sidelines of 80th Session of the United Nations General Assembly held on 23 September 2025 in New York Joint Communique'https://t.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 24, 2025
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن، 2,800 افراد کی گرفتاری، درجنوں گھروں کی مسماری اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
مزید پڑھیں:اسلامی تعاون تنظیم کو موثر بنانے کے لیے داخلی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور، او آئی سی کا اعلامیہ جاری
وزرائے خارجہ نے کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ کی بیماری کے باوجود مسلسل حراست پر گہری تشویش ظاہر کی اور ہزاروں سیاسی کارکنوں و انسانی حقوق کے علمبرداروں کی قید، جماعتوں پر پابندی اور جائیدادوں کی ضبطی کی مذمت کی۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی حیثیت اور آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:’اسرائیل خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے‘، صدر او آئی سی اجلاس خاقان فیدان
اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی آئین کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کرائے جانے والے انتخابات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
او آئی سی رابطہ گروپ نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہوئے بھارت پر زور دیں کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعلامیہ اقوام متحدہ او آئی سی رابطہ گروپ جنرل اسمبلی حق خودارادیت نیویارک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلامیہ اقوام متحدہ او آئی سی رابطہ گروپ جنرل اسمبلی حق خودارادیت نیویارک کشمیری عوام کے اقوام متحدہ رابطہ گروپ او آئی سی زور دیا کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔