مستونگ(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک پر ہوئے بم دھماکے کے نتیجے میں پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئی۔ سرکاری حکام کے مطابق دھماکے کے باعث ایک بوگی مکمل طور پر گر گئی جبکہ چھ دیگر بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

یہ واقعہ منگل کی شام اسپیزنڈ کے قریب پیش آیا۔ لیویز فورس دشت کے ایس ایچ او اختر بلوچ نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹا جب جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی۔

ریلوے ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 12 مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ریلوے کے مقامی ترجمان نے تصدیق کی کہ ٹرین میں تقریباً 270 مسافر سوار تھے۔

واضح رہے کہ دشت کا علاقہ کوئٹہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس علاقے میں ماضی میں بھی ٹرینوں کو کئی بار بم دھماکوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب جعفر ایکسپریس کو دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں برس 4 اگست کو بھی کولپور کے قریب ریلوے ٹریک پر حملے کی کوشش کی گئی تھی جب کلیئرنس کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی۔

اس سے قبل 11 مارچ 2025 کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی نو بوگیوں پر مشتمل جعفر ایکسپریس پر بڑا حملہ کیا گیا تھا جس میں 26 مسافر شہید ہوئے تھے، جن میں فوج، ایف سی، ریلوے اور عام شہری شامل تھے جبکہ 354 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا تھا۔

جون 2025 میں بھی سندھ کے ضلع جیکب آباد میں جعفر ایکسپریس بم دھماکے کا نشانہ بنی تھی، جس سے چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں تاہم تمام مسافر محفوظ رہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس ریلوے ٹریک پر

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد