سیلاب متاثرین کی امداد وزیرِ اعلیٰ کارڈ یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے؟ نیا تنازعہ پیدا ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ متاثرین کی امداد کے معاملے پر پنجاب حکومت اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی قیادت کے درمیان نیا تناؤ پیدا ہو گیا ہے جبکہ آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس معاملے پر اپنا بیان دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت ہوگی، آصفہ بھٹو
پنجاب حکومت کی ترجمان اور وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کی فوری اور باعزت مدد کے لیے وزیرِ اعلیٰ ریلیف کارڈ متعارف کرائیں گے تاکہ کسی متاثرہ شخص کو لائنوں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا لیکن ہر معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی پر تنقید افسوسناک اور غیرذمہ دارانہ ہے۔
ان کے مطابق اس پروگرام کا نہ تو کسی لسانی گروہ سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے، بلکہ یہ ایک قومی سطح کا سوشل پروٹیکشن پروگرام ہے جس کے ذریعے کورونا وبا، 2022 کے سیلاب اور رمضان پیکج کے دوران بھی عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بند ہونا چاہیے‘، رانا ثنا اللہ نے ایسا کیوں کہا؟
روبینہ خالد نے وضاحت کی کہ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا جیو ٹیگ ہے اور ہمیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کن علاقوں میں سیلاب آیا اور وہاں رہنے والے کتنے خاندان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس جیسے پروگرام چلائے جاتے ہیں، اس لیے بی آئی ایس پی پر تنقید کرنے کے بجائے اگر کسی کے پاس کوئی متبادل منصوبہ ہے تو وہ پیش کرے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں، اور بی آئی ایس پی متاثرین تک امداد پہنچانے کا سب سے تیز اور مؤثر ذریعہ ہے۔
آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ریاست کے پاس متاثرہ افراد کا ڈیٹا رکھنے والا اور ان تک براہِ راست پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والا واحد ادارہ بی آئی ایس پی ہے، لہٰذا اس پلیٹ فارم کو استعمال نہ کرنا متاثرین کے ساتھ غفلت برتنے کے مترادف ہوگا۔
سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات پر یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ امداد کی تقسیم اور اس کے طریقہ کار پر صوبائی سطح پر اختلافات موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بی آئی ایس پی متاثرین کی آصفہ بھٹو معاملے پر کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان