’کیا پاکستان کا کوئی ادارہ اس پروگرام کے خلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں؟‘، لازوال عشق کے ٹریلر پر تہلکہ مچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان عائشہ عمر کے ریئلٹی شو’لازوال عشق‘ پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صارفین نے شو کے مواد کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے اس کی نشریات پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے پیشِ نظر پیمرا نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ’لازوال عشق‘ کسی لائسنس یافتہ ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہو رہا بلکہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھایا جا رہا ہے، لہٰذا یہ پروگرام براہِ راست پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’شروع ہونے سے پہلے ہی بائیکاٹ کیا جائے‘، عائشہ عمر کے ڈیٹنگ ریئلٹی شو ‘لازوال عشق’ پر صارفین پھٹ پڑے
پیمرا کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران شو کا ٹیزر بھی جاری کیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بڑھا دیا۔ ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ میزبان عائشہ عمر ایک خاتون شرکاء سے سوال کرتی ہیں کہ دو مرد شرکاء میں سے وہ کس کو زیادہ پسند کرتی ہیں، جس پر خاتون جواب دیتی ہیں ’دونوں اچھے ہیں‘۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرز کا مواد مقامی ثقافت اور روایات سے ہم آہنگ نہیں اور اس سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شوز کے خلاف مؤثر ضابطۂ اخلاق وضع کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی میڈیا پر نشر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹنگ شو ’لازوال عشق‘ پر شدید تنقید کے بعد میزبان عائشہ عمر بھی بول پڑیں
صارفین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکومِ پاکستان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کا کوئی ادارہ اس پروگرام کے خلاف ایکشن لینے پر تیار نہی۔ سنا ہے 29 نومبر سے رلیز ہو رہا ہے یہ نیکسٹ لیول پر بے شرمی کو لے جائے گا۔
پاکستان کا کوئی ادارہ اس پروگرام کے خلاف ایکشن لینے پر تیار نہی سنا ہے 29 نومبر سے رلیز ہو رہا ہے یہ نیکسٹ لیول پر بے شرمی کو لے جائے گا pic.
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) September 23, 2025
اطہر سلیم نے لکھا کہ پاکستان میں اس کے لیے اگر کوئی قانون نہیں تو لوگوں کو خود اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئیے۔
یقیناً یہ بڑی بے غیرتی ہے اسے تو روکنا ضروری ہے!
پاکستان میں اس کے لئے اگر کوئی قانون نہیں تو لوگوں کو خود اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئیے! @reportpemra stop it before it is too late pic.twitter.com/Lbv3UFU1bL
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) September 24, 2025
ایک صارف نے کہا کہ اگر صحافیوں کے یوٹیوب چینل بند ہو سکتے ہیں تو یہ پروگرام کیوں بند نہیں ہو سکتا۔
صحافیوں کے یوٹیوب چینل بند ہو سکتے ہیں تو یہ پروگرام کیوں بند نہی ہو سکتا ????
— S K Lodhi (@SKLodhi96763826) September 24, 2025
جہاں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں چند صارفین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام یو ٹیوب پر نشر ہو گا جس کو مسئلہ ہے وہ اس شو کو نہ دیکھے۔
بھائی یو ٹیوب پے آرہا ہے جس کو مسئلہ ہے نہ دیکھے اس میں پریشانی کیسی
— Mian Aamir Mehmood (@mianaamir4000) September 23, 2025
واضح رہے کہ شو کے فارمیٹ کے مطابق تمام شرکاء جن میں 4 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں بنگلے میں ایک ساتھ رہیں گے، اور ان کی ہر سرگرمی کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کی جائے گی۔ ممکنہ طور پر 100 اقساط پر مشتمل اس ریئلٹی شو میں شرکاء کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا اور اختتام پر ایک فاتح جوڑا منتخب کیا جائے گا۔
عائشہ عمر کا اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پروگرام میں کوئی پہلے سے جوڑے نہیں بنائے گئے بلکہ شرکاء ایک دوسرے کو جان کر قدرتی طور پر رشتے قائم کریں گے اور اس کا مقصد شادی ہے یہی پروگرام کی بنیاد ہے۔ کھیل بھی بات چیت پر ہی مبنی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیمرا عائشہ عمر لازوال عشق
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیمرا لازوال عشق سوشل میڈیا یہ پروگرام لازوال عشق کے خلاف ہیں تو رہا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔