غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مزید 59 فلسطینی شہید، یورپی ممالک اور کینیڈا کا طبی راہداری کھولنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
غزہ ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گیا، جہاں آج کے روز مزید 59 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جان بوجھ کر عام شہریوں پر دہشت مسلط کر رہی ہے، اور ہزاروں افراد کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
قطری نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق صرف آج صبح کے وقت 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے 36 غزہ شہر میں جان کی بازی ہار گئے۔ جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں ایک امدادی مرکز کے باہر 8 شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کھانے کے انتظار میں قطار میں کھڑے تھے۔
غزہ شہر اس وقت مکمل محاصرے میں ہے، جہاں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی اور شدید بمباری جاری ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے علاقے میں کی جا رہی ہے جو پہلے ہی انسانی بحران کا شکار ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 65 ہزار 382 فلسطینی شہید اور 166 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ ہسپتال نہیں، ذبح خانہ ہے” — ڈاکٹر ندا ابو العرب
آسٹریلوی ڈاکٹر ندا ابو العرب، جو اس وقت غزہ شہر کے الشفا اسپتال میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں، نے الجزیرہ سے گفتگو میں دل دہلا دینے والے مناظر بیان کیے۔
انہوں نے کہا آپ سمجھ نہیں پاتے کہ یہ ہاتھ کس کا ہے، یہ ٹانگ کس کی ہے۔ لاشیں اس حالت میں آتی ہیں کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ منظر کسی ہولناک فلم جیسا ہے۔ اسپتال، اسپتال نہیں بلکہ ذبح خانہ یا قبرستان بن چکا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ بمباری مسلسل جاری ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے ہر ممکن ہتھیار آزمائے جا رہے ہوں۔ یہ قتل عام ہے — ہر سمت سے، ہر لمحے۔ بچوں کی حالت ناقابلِ بیان ہے، ان کے جسم چیتھڑوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ سب ناقابلِ قبول اور ناقابلِ فہم ہے۔”
ڈاکٹر ندا ابو العرب نے عالمی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کیسے جاری رہنے دیا جا رہا ہے؟ کیوں کوئی حکومت یا عالمی طاقت اسے روکنے کی ہمت نہیں کر رہی؟ ہر لمحہ قیمتی ہے، ہر لمحہ کسی پورے خاندان کو بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ہر شخص صرف اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔
عالمی برادری کا دباؤ
غزہ میں انسانی بحران کو دیکھتے ہوئے 25 یورپی ممالک اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ سے زخمیوں کے طبی انخلا کے لیے راہداری کھولے اور مغربی کنارے و مشرقی یروشلم تک رسائی ممکن بنائے۔
بیان میں کہا گیا کہ زخمیوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے اور ان ممالک نے مالی معاونت، طبی عملہ اور مطلوبہ سامان فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
اس اتحاد نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادویات اور طبی سامان کی ترسیل پر تمام پابندیاں ختم کرے، اقوامِ متحدہ کو انسانی ہمدردی کا کام بلا رکاوٹ جاری رکھنے دے اور طبی عملے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینی شہید
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :