احسن اقبال کی گورنر ہونان سے ملاقات، بی ڈو سمٹ میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
احسن اقبال—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بی ڈو سسٹم صنعتی ترقی کے لیے جدید معلوماتی نظام فراہم کرتا ہے۔
احسن اقبال نے دورۂ چین کے دوران صوبہ ہونان کے گورنر ماو ویمِنگ سے ملاقات کی اور بی ڈو سمٹ میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کو توانائی اور انفرااسٹرکچر کے مسائل سے نکالا، سی پیک فیز ٹو میں ترجیح صنعت، جدید زراعت اور معدنیات کو دی جا رہی ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط بھی سی پیک فیز ٹو کے اہم شعبے ہیں، ہونان کا چینی معیشت میں مرکزی کردار قابلِ تعریف ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ بی ڈو استعمال کرنے والا پہلا غیر ملکی ملک پاکستان تھا، پاک چین تعاون خلاء اور جدید ٹیکنالوجی کے نئے افق چھو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: احسن اقبال
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔