بی آر ٹی میں تاخیراوربدانتظامی کی شکایات درج کرانے پر کونسلر کےخلاف انکوائری
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)46ماہ سے یونیورسٹی روڈ پر زیر تعمیر بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبے میں غیر معمولی تاخیر اور بدانتظامی کی شکایت درج کروانے پر جناح ٹاو¿ن یوسی11 کے کونسلر محمد طلحہ ذوالفقار کے خلاف ٹرانس کراچی نے صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کراچی کو انکوائری کی درخواست دائر کردی ہے اور منتخب کونسلر کے خلاف نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے بعد کونسلر نے کمشنر سیکرٹریٹ( Commissionerate )آفس میں ریجنل ڈائریکٹریٹ کراچی ڈویژن لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں پیش ہوکراپنا موقف پیش کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جناح ٹاﺅن کی حدود، دادا بھائی نورو جی روڈ پر بی آر ٹی (ٹرانس کراچی) کے ترقیاتی منصوبے میں غیر معمولی تاخیر اور بدانتظامی کے باعث خداداد کالونی کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تعمیراتی کام احتیاطی تدابیر کے بغیر جاری رہنے پر جب علاقہ مکینوں کی شکایات سامنے آئیں اور جماعت اسلامی کے کونسلر (یو سی 11 جناح ٹاو¿ن) محمد طلحہ ذوالفقار نے متعلقہ اداروں سے باضابطہ شکایت درج کروائی تو ٹرانس کراچی کی جانب سے الٹا ان کے خلاف صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کراچی کو انکوائری کی درخواست دائر کردی گئی۔واضح رہے کہ بی آر ٹی ٹرانس کراچی نے 2024 کے آخر میں دادا بھائی نورو جی روڈ پر Rainwater Drainage Tank منصوبے کے تحت کام کا آغاز کیا تھا۔ اس شاہراہ پر چرچ، اسکول، مسجد، اسلامی ادارہ اور رہائشی علاقے واقع ہیں جبکہ یہ سڑک مزارِ قائد تک جاتی ہے۔کونسلر کا کہنا تھا کہ شکایات کا آغاز اس وقت کیا جب منصوبے کے دوران گٹر کا ڈھکن ٹوٹ گیا۔ بی آر ٹی اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اس ذمہ داری کو ایک دوسرے پر ڈال دیا، جس کے بعد مسائل مزید بڑھتے گئے ،سیوریج اور پانی کی پائپ لائن بار بار ٹوٹتی رہیں،اسٹریٹ لائیٹ کے پول اکھاڑ دیے گئے،گٹر کے مزید ڈھکن توڑ دیے گئے،کام کے دوران نہ فلیگ مین موجود تھے، نہ جرسی بلاکس پر نشان لگائے گئے،نہ ہی سائن بورڈز نصب کیے گئے اور نہ ہی پانی کا چھڑکاو¿ کیا گیا جس پر میں نے اہلِ علاقہ کے ساتھ مل کر شکایات درج کروائیں کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی پالیسیوں کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔کونسلر طلحہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ میری نشاندہی کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک اور ٹرانس کراچی کی ٹیم نے یو سی آفس میں ملاقات کی۔ بعد ازاں ADB کے وفد نے یو سی 11 کے بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ دادا بھائی نورو جی روڈ کا دورہ کیا اور شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے ٹرانس کراچی کو اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی۔ اس موقع پر 17 نکاتی Corrective Action Plan مرتب کیا گیا۔کونسلر کے مطابق اس وقت Corrective Action Plan پر تقریباً 75 فیصد عمل درآمد مکمل ہوچکا ہے اور باقی 2 سے 3 نکات پر کام جاری ہے۔ اس حوالے سے اب تک ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ 5 سے 6 اور ٹرانس کراچی کے ساتھ 15 سے زائد اجلاس ہوچکے ہیں۔کونسلر کا کہنا ہے کہ جیسے ہی دادا بھائی نورو جی روڈ کا کام مکمل ہوگا، شہریوں کو آگاہ کردیا جائے گا اور شکایات کا سلسلہ بھی ختم کردیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دادا بھائی نورو جی روڈ ٹرانس کراچی بی آر ٹی
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔