Jasarat News:
2026-07-24@08:23:43 GMT

ٹرمپ کی اردوان سے ملاقات ،تعریفوں کے پل باندھ دیے

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک (ما نیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں ان کی تعریفوں کے پ±ل باندھ دیے۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے وائٹ ہاو¿س پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔بعد ازاں ون آن ون ملاقات سے قبل ترک صدر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں بہترین آدمی قرار دیا اور کہاکہ صدر اردوان قابل احترام شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں اور اپنی ایک مضبوط رائے رکھتے ہیں، مجھے عام طور پر ایسے لوگ پسند نہیں ہوتے لیکن انہیں میں پسند کرتا ہوں،اردوان نے ترکیہ کی ایک طاقتور فوج بنائی ہے اور امریکی ساختہ آلات کا وسیع استعمال کرتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر اردوان نے اپنے ملک میں بہترین کام کیا ہے اور ہمارے تعلقات بہترین رہے ہیں چاہے ان کا تعلق جنگ سے ہو یا تجارت سے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی دونوں صدر اردوان کی عزت کرتے ہیں، سب ہی ان کی عزت کرتے ہیں، میں بھی ان کی عزت کرتا ہوں اور اگر یہ چاہیں تو اس معاملے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان نیوٹرل رہنا پسند کرتے ہیں اور میں بھی نیوٹرل رہنا پسند کرتا ہوں،یوکرین جنگ کے معاملے پر جو بہترین کام یہ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ روس سے تیل اور گیس خریدنا چھوڑ دیں تو ترکیہ سے پابندیاں فوراً ہٹا سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ شام کو اس کے سابق حکمران سے چھٹکارا دلوانے کے ذمے دار صدر اردوان ہیں، یہ اس کی ذمے داری نہیں لیتے جبکہ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے،صدر اردوان کو اس کا کریڈٹ لینا چاہیے، میں نے ان سے کہا بھی کہ یہ آپ کی کامیابی ہے، اس کا کریڈٹ لیں، آپ ہزار سال سے شام حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپ اس میں کامیاب رہے۔قبل ازیںیمن کے نگراں صدر رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ثابت کرے کہ بین الاقوامی قانون صرف ایک ”افسانہ“ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ اوریمن کی صورتحال آج عالمی ضمیر کے لیے ایک اخلاقی کسوٹی بن چکی ہے، فلسطینی مسئلہ عرب عوام کا مرکزی مسئلہ ہے اور ایک ایسا زخم ہے جو مسلسل رس رہا ہے۔علاوہ ازیں چلی کے صدر گیبریل بورک نے اقوام متحدہ میں غزہ کے انسانی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ان کے خاندان کے ساتھ میزائل سے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل کو 80 سال مکمل ہوں گے، 1945ءکے بعد سے دنیا بہت زیادہ بدل چکی ہے پھر بھی کچھ چیزیں جوں کی توں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں کبھی کبھی بین الاقوامی برادری پر دہرے معیار کا الزام لگایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے مخالفین کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب کوئی مبینہ دوست اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم آنکھیں پھیر لیتے ہیں یا ابہام کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود غزہ میں شہید کیے جانے والا فلسطینی نوجوان اور افغانستان میں اسکول سے نکالی جانے والی خواتین “سب سے بڑھ کر انسان ہیں،تمام اقوام کو اپنی آواز کو ان کے حق میں بلند کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نیتن یاہو اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے ذمے داروں کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔علاوہ ازیں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی درندگی پر عالمی خاموشی انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے، غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ جارحیت نہیں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔اقوام متحدہ سے وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے غزہ جنگ بندی کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قبضہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے، دنیا صرف دیکھ رہی ہے، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد میں مکمل ناکام رہا۔محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو جوابدہ بنانا ہوگا ورنہ امن ممکن نہیں۔فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرے، عالمی برادری کے دہرے معیار نے ہمیں مایوس کیا، ہم پر جنگ مسلط ہے ، اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں اپنے ناپاک منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے ،غزہ فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے، اسرائیل کی پشت پناہی میں یہودی آبادکار دن دیہاڑے فلسطینیوں کا قتل کر رہے ہیں،مزاحمت کرنا ہمارا حق ہے۔

راصب خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ صدر اردوان نے کہا کہ انہوں نے کرتے ہیں

پڑھیں:

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی