ڈیرہ اسماعیل خان میں منی بس کھائی میں جا گری، ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2025ء ) ڈیرہ اسماعیل خان میں منی بس کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ دانا سر کے مقام پر پیش آیا جہاں خانوزئی سے ڈیرہ اسماعیل خان آتے ہوئے گاڑی کھائی میں گرنے سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے، ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی بریک فیل ہونے کے باعث کھائی میں جا گری، حادثے میں جاں بحق 11 افراد کے علاوہ 3 زخمی بھی ہوئے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ اس افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں دریا خان، احمد اور 10 سالہ یوسف شامل ہیں، زخمیوں اور تمام لاشوں کو ضابطے کی ضروری کارروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور نے داناسر کے مقام پر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کی، انہوں نے مرحومین کے ایصالِ ثواب اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا بھی کی، اس کے علاوہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈیرہ اسماعیل خان کھائی میں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔