یمن میں حملے کا نشانہ بنے بحری جہاز میں کپتان سمیت عملے کے 24 پاکستانی ارکان سوار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
یمن میں حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز کے حوالے سے سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ مذکورہ بحری جہاز ایرانی بندرگاہ بندر عباس سے یمن میں ایل این جی لے کر جا رہا تھا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کے کپتان سمیت عملے کے 24 ارکان پاکستانی ہیں۔
سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ واقعے میں کسی پاکستانی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حوثیوں نے بچ جانے والے کئی ارکان کو اغوا کرلیا جبکہ 6 افراد کو بچالیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بحری جہاز یمنی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں نہیں ہے۔
سفارتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان بحری جہاز میں موجود شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی عملے نے ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ یمنی پورٹ پر جہاز پر 10 دن پہلے ڈرون حملہ ہوا تھا۔ جہاز کے کیپٹن نے مطالبہ کیا ہے جہاز کو فوری جیبوتی لے جانے کی اجازت دی جائے۔
جہاز کے پاکستانی عملے کا کہنا ہے کہ وزارتِ میری ٹائم اور ڈی جی پورٹس کی جانب سے پاکستانیوں کی مدد کا انتظار ہے، جہاز پر حوثی باغی موجود ہیں، پاکستانی عملے کو جہاز چھوڑنے نہیں دیا جا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع کہنا ہے کہ بحری جہاز جہاز کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔