data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( کامرس رپورٹر) میسے فرینکفرٹ، جو ہائم ٹیکسٹائل، ٹیک ٹیکسٹائل اور ٹیکس پروسیس جیسے دنیا کی تین بڑی ٹیکسٹائل نمائشوںکا منتظم ہے نے کراچی میں دو پیڈل ٹورنامنٹس ، ٹیک ٹیکسٹائل مائیسٹر کپ اور ٹیکس پروسیس چیلنج کپ، کا انعقاد کر کے تعاون اور روابط کے جذبے کو اجاگر کیا۔18 سے 25 ستمبر 2025 تک منعقدہونے والے ان مقابلوں میں 20 سے زائد ٹیموں نے شرکت کی، جن میں پاکستان کے نمایاں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز، تجارتی انجمنوں اور صنعتی شراکت داروں کے نمائندگان شامل تھے۔ یہ ایونٹ کاروباری رہنماؤں کے لیے ایک جاندار اورانٹریکٹوپلیٹ فارم ثابت ہوا، جس میں انہوں نے زیادہ دوستانہ اور پُرلطف ماحول میں تعلقات قائم کیے اور کھیل کے جذبے کے ذریعے اپنے پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط بنایا۔یہ ٹورنامنٹس ٹیک ٹیکسٹائل، ٹیکس پروسیس اور ہائم ٹیکسٹائل کے تھیمز کے تحت منعقد کیے گئے، جو صنعت کے اندر تعاون، جدت اور عالمی تجارت کے بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ہائم ٹیکسٹائل ، جو دنیا کی سب سے بڑی ہوم اور کنٹریکٹ ٹیکسٹائل کی نمائش ہے، بشمول بیڈ شیٹس،کچن لینن، کارپیٹس اور تولیے وغیرہ۔ پاکستان کی ہوم ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ عالمی خریداروں تک بے مثال رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا اگلا ایڈیشن 13 سے 16 جنوری 2026 ، تک فرینکفرٹ، جرمنی میں منعقد ہوگا جبکہ ٹیک ٹیکسٹائل 21 سے 24 اپریل 2026 تک منعقدکی جائے گی اوراس میں مختلف صنعتوں جیسے ہیلتھ کیئر ، اسپورٹس، پروٹیکشن اور پیکجنگ کے لیے ٹیکنیکل ٹیکسٹائل پر توجہ دیتی ہے۔ یسے فرینکفرٹ ایس پی پاکستان کے سی ای او عمر صلاح الدین نے اس اقدام کی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ ’’اس طرح کے ایونٹس ہمیں اپنی کمیونٹی کو مضبوط بنانے اور دیرپا تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو صرف کاروبار تک محدود نہیں رہتے۔ ہم باسط شجانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس شاندار ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا اور ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں صنعت کے ماہرین زیادہ ذاتی اور دوستانہ انداز میں ہوسکے۔ جیسے جیسے میسے فرینکفرٹ پاکستان میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، ایسے اقدامات ہماری اس وابستگی کو اجاگر کرتے ہیں کہ ہم نہ صرف تجارتی فروغ بلکہ کاروباری برادری کے ساتھ بامعنی تعلقات استوار کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔عمر صلاح الدین نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے میسے فرینکفرٹ پاکستان نے اپنے کردار کو صرف ایک نمائش منتظم سے بڑھا کر لوگوں، خیالات اور صنعتوں کو جوڑنے والے ادارے کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

گلزار کامرس رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میسے فرینکفرٹ ٹیک ٹیکسٹائل ٹیکس پروسیس

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم