پاکستان کرکٹ ٹیم کے نوجوان بیٹر صائم ایوب ایشیا کپ میں بیٹنگ میں تو اپنی کارکردگی نہیں دکھا پارہے لیکن انہوں نے اپنی بولنگ سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ روز بھی بنگلادیش کے خلاف صائم ایک بار پھر صفر پر آؤٹ ہوگئے اور ایشیا کپ 2025 میں چوتھی بار بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے ۔ لیکن صائم ایوب نے ایک بار پھر شاندار بولنگ کرتے ہوئے بنگلادیش کے خلاف 2 وکٹیں لیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔صائم کی بولنگ پرفارمنس دیکھ کر شائقین سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ یہ ٹیم میں بطور بیٹر کھیل رہے یا بطور بولر ٹیم کا حصہ ہیں کیوں کہ رن ان سے بن نہیں رہے البتہ مخالف ٹیم کی وکٹیں اڑا رہے ہیں۔ایشیا کپ میں صائم کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو انہوں نےبطور بیٹر 6 اننگز میں صرف 23 رنز اسکور کیے جبکہ بولنگ کی بات کریں تو وہ اب تک 6 میچز میں 8 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔صائم کی بولنگ پرفارمنس دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ صارفین کا خیال ہے کہ صائم ایوب کو بطور بیٹر دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ نیا سعید انورہے لیکن جس طرح وہ بولنگ کررہا ہے وہ تو سعید اجمل بن گیا۔  شہزاد ملک نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ 'صائم کو سعید انور بننا تھا یہ تو سعید اجمل بن گیا'۔میاں عمر نے لکھا کہ 'ہم صائم کو سعید انور سمجھے رہے تھے یہ تو سعید اجمل نکلا'۔ایک اور صارف نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ 'صائم اگلا سعید انور نہیں بلکہ سعید اجمل ہے'۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تو سعید اجمل صائم ایوب

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ