بھارت کے علاقے امروہہ میں 22 سالہ خاتون استاد پر تیزاب پھینکنے کے واقعے میں ملوث شخص اور ایک خاتون کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کی شناخت 30 سالہ نیشو تیواری کے طور پر ہوئی ہے جو ضلع امروہہ کا رہائشی ہے۔

پولیس کے مطابق 23 ستمبر کو نکاسہ تھانہ علاقے میں اسکول سے واپس آتی ہوئی استاد پر نیشو نے اسکوٹر پر سوار ہو کر تیزاب پھینکا جس کے نتیجے میں متاثرہ خاتون کا جسم 20 سے 30 فیصد تک جھلس گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ناکام عاشق خود کو مارکر تاریخ میں نام کرلیتا، تیزاب گردی کیس میں جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس

مقامی پولیس کے مطابق جمعرات کی رات پولیس نے ناکے پر نیشو کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں اس کی دونوں ٹانگوں میں گولی لگی اور اسے گرفتار کر کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس کے قبضے سے پستول، کارتوس اور اسکوٹر بھی برآمد کیے گئے۔

تحقیقات کے دوران نیشو نے انکشاف کیا کہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعے ‘ڈاکٹر ارچنا’ نامی خاتون نے اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ اس خاتون نے اسے بتایا کہ اس کی بہن جہاںوی کی منگنی ایک فوجی سے ہوئی تھی لیکن فوجی نے پہلے سے نیشو نامی منگیتر ہونے کی وجہ سے رشتہ ختم کر دیا۔ خاتون نے نیشو کو جو پیشے کے لحاظ سے ٹیچر تھی، سے بدلہ لینے پر اکسایا۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں تیزاب گردی کی روک تھام کے لیے ‘ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025’ کا ڈرافٹ منظور

مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ‘جہانوی’ اور ‘ڈاکٹر ارچنا’ دراصل ایک ہی خاتون ہیں جس نے مختلف شناختیں بنا کر نیشو کو گمراہ کیا۔ پولیس کے مطابق یہ خاتون شادی شدہ ہے اور اس کے 3 بچے ہیں۔ اس نے پہلے بھی اپنے شوہر کو نشہ آور گولیاں دے کر نیشو کے ساتھ فرار اختیار کیا تھا۔ حتیٰ کہ شناخت بدلنے کے لیے اس نے چہرے پر موجود تل بھی ہٹوا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق نیشو اور مذکورہ خاتون کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تیزاب گردی خاتون دھوکا شناخت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تیزاب گردی خاتون دھوکا پولیس کے مطابق خاتون نے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار