کرک میں آپریشن، 17 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
سکیورٹی فورسز کادرشہ خیل میں ملا نذیر گروپ کی علاقے میں موجودگی کی اطلاعات پرآپریشن
22 دہشت گردوںکے گروہ کو منصوبہ بندی کے تحت گھیرے میں لیا ،بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد
خیبر پختونخوا میں کرک کے علاقے درشہ خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 17 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوگئے کرک کے تھانہ شاہ سلیم کے علاقے درشہ خیل میں پاک آرمی، اسپیشل سروسز گروپ اور سی ٹی ڈی نے ملا نذیر گروپ کی علاقے میں موجودگی کی اطلاعات پرآپریشن کیا، یہ علاقہ لکی مروت اور کرک کی سرحد پر واقع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ خفیہ معلومات پر 22 دہشت گردوں پر مشتمل گروہ کو درشہ خیل میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گھیرے میں لیا گیا، پھر انتہائی مہارت سے گھیرا تنگ کر کے نشانہ بنایا گیا، اس آپریشن میں 17 دہشت گرد مارے گئے جبکہ سات سے دس دہشت گردوں کے شدید زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی دنوں کی خفیہ اطلاعات کے بعد دریشک میں دہشت گردوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ملی تھیں جس کے بعد انتہائی دشوار گزار علاقے میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا دریشک میں آپریشن پچھلے دو روز تک جاری رہا، جس میں اب تک 17 دہشت گرد ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔بعدازاں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن سے واپسی پر علاقہ مکینوں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کا خیرمقدم کیا گیا، مقامی افراد نے آپریشن کے بعد واپس آنے والے اہلکاروں کے ساتھ جشن بھی منایا۔بعض اطلاعات کے مطابق فراردہشت گردوں کی تلاش کے لئے درشہ خیل اور قریبی دیہات میں کرفیو نافذ کر دیا گیا،ڈی پی او نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا ہے، صدر آصف زرداری وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع کرک میں 17 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،اپنے الگ الگ بیانات میں انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت کارروائی کی بدولت دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے، حکومت اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں، دہشتگردی کے عفریت کو جلد جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے درشہ خیل میں
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔