پاکستان اور نیپال میں قتل کی سازش، امریکا میں بھارتی ایجنٹ کو مقدمے کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
امریکی محکمہ انصاف نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بڑے کرائے کے قتل کی سازش ناکام بنا دی گئی ہے جس میں بھارتی سرکاری اہلکار نکھل گپتا ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: انسانی اسمگلنگ میں بھارتی ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف
نکھل گپتا کو چیک ری پبلک سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا، جہاں اس پر ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نکھل گپتا بھارت کے ایک سرکاری عہدیدار کے کہنے پر اس منصوبے میں شامل ہوا اور قتل کے لیے روابط اور مالی لین دین کا بندوبست کیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران اس نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سکھوں نے کینیڈا میں بھارتی قونصلیٹ کے گھیراؤ کا اعلان کیوں کیا؟
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس سازش کے دوران پاکستان یا نیپال میں ایک اضافی قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ بھی کیا گیا تھا۔
چیک ری پبلک کی عدالت نے نکھل گپتا کی امریکا حوالگی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اسے وہاں منتقل کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف ایک سنگین فوجداری معاملہ ہے بلکہ اس کے سفارتی اور بین الاقوامی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف بھارتی ایجنٹ پاکستان چیک ری پبلک نیپال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی محکمہ انصاف بھارتی ایجنٹ پاکستان چیک ری پبلک نیپال میں بھارتی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔