امریکا نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی خواہش ظاہر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
امریکا نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی خواہش ظاہر کر دی۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست تنازع ہے، اگر کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کی جائے تو ہم آمادہ ہیں، مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا نے مدد فراہم کی۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشتگردوں کی حوالگی کے اقدام پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، امریکی شہریوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد کی حوالگی تعلقات کی اچھی شروعات تھی۔امریکا کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنے مفادات کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں، پاکستان اور بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات مختلف نوعیت کے حامل ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ہم ریکوڈک میں سرمایہ کاری کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔