ایشیا کپ کا فائنل آج پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا،گرین شرٹس پُرعزم اور جیت کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل آج پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2025 کے فائنل میں آج دبئی میں مدمقابل ہوں گی۔ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاک بھارت فائنل ہوگا۔فائنل کیلئے گرین شرٹس پُرعزم اور جیت کے لیے تیار ہیں جبکہ کھیل کے دیوانے پُرجوش ہیں اور پاکستان کی جیت کی امیدیں برقرار ہیں۔ قومی ٹیم نے ہفتے کو فائنل سے قبل بھرپور پریکٹس کی۔کپتان سلمان علی آغا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پر امید ہیں کہ فائنل میں ٹیم اچھی کارکردگی دکھائی گی، ایشیا کپ جیتنے آئے تھے ،جیت کر جائیں گے۔ایشیا کپ 2025 میں بھارت نے پاکستان کو دونوں میچز میں ہرایا لیکن اس کے علاوہ پاکستان نے اب تک ایشیا کی ہر ٹیم کو شکست دی ہے۔فائنل میں گرین شرٹس کے عزائم بھی الگ ہیں ا ورجیت کی بھوک بھی بڑھ چکی ہے۔ پاکستان اور بھارت کسی بھی ٹورنامنٹ میں اب تک 5 بار فائنل میں آمنے سامنے آئیں ہیں یہاں پاکستان بھارت سے آگے ہے۔پاکستان نے 3 بار جبکہ بھارت نےپاکستان کو 2 بار فائنل میں شکست دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت فائنل میں ایشیا کپ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔